۱؎ اس حدیث سے بعض لوگوں نے فرمایا کہ عراق والوں کے لیے دو میقات ہیں:عقیق اور ذات عرق،جس سے عقیق پہلے ہے اور ذات عرق بعد میں لہذا اگر عراق والے حجاج عقیق سے ہی احرام باندھ لیں تو بہت بہتر ہے اور اگر ذات عرق سے احرام باندھیں تو گنہگار نہیں۔
۲؎ یہ حدیث دارقطنی نے بھی روایت کی جس کی سند علٰی شرط بخاری ہے اور یہ حدیث مسلم شریف کے موافق ہے جو پہلی فصل میں گزر چکی۔بخاری نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا کہ جب عہد فاروقی میں عراق فتح ہوا تو عراقیوں نے فاروق اعظم کی خدمت میں عرض کیا کہ امیر المومنین ہمارا میقات کیا ہے کیونکہ نجد کا میقات قرن ہم سے بہت دور ہے تو آپ نے قرن کے مقابل ذات عرق مقرر کیا کہ انہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مقرر فرمادینے کی خبر نہ تھی۔(مرقات)