۱؎ اہل مشرق سے مراد عراق والے ہیں۔عقیق عق سے بنا بمعنی قطع ہوجانا،چونکہ اس جگہ پانی کا سیلاب آتا رہتا ہے جس سے یہ علاقہ دوسری زمین سے کٹ جاتا ہے اس لیے اسے عقیق کہتے ہیں یہ عقیق وہ عقیق نہیں ہے جو مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے،بلکہ یہ عقیق مکہ معظمہ سے شرقی جانب ہے ذات عرق کے مقابل۔امام طیبی نے فرمایا کہ صحیح تر یہ ہے کہ یہ میقات حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عراق فتح فرما کر مقرر کیا یہ حدیث مرفوعًا صحیح نہیں۔(اشعہ،مرقات)بلکہ عراق والوں کے لیے میقات ذات عرق ہے جیسے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔