۱؎ وہ صاحب شبرمہ کی طرف سے حج بدل کررہے تھے اس لیے ان ہی کے نام سے تلبیہ کہہ رہے تھے۔
۲؎ اس حدیث کی بنا پر امام شافعی،امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ جس نے اپنا حج نہ کیا ہو وہ حج بدل ہر گز نہیں کرسکتا،اگر کرے گا تو وہ خود اس کا اپنا حج ادا ہوگا نہ کہ بدل والے کا مگر امام اوزاعی،امام مالک،امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہم فرماتے ہیں کہ حج بدل ادا تو ہوجائے گا مگر ایسا کرنا بہتر نہیں۔چاہیے یہ کہ پہلے اپنا حج کرے پھر حج بدل اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک عورت کو اپنے باپ کی طر ف سے حج کرنے کی اجازت دی ا ور یہ نہ پوچھا کہ تو اپنا حج کرچکی ہے یا نہیں لہذا وہ حدیث بیان جواز کے لیے تھی اور یہ حدیث بیان استحباب کے لیے ہے۔
۳؎ امام ابن ہمام نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح نہیں مضطرب ہے کیونکہ اس کے راوی سعید ابن عروبہ اولًا بصرہ میں تو اسے حضرت ابن عباس پر موقوفًا ر وایت کرتے تھے پھر بعد میں کوفہ آکر مرفوعًا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرنے لگے۔معلوم ہوا کہ ان پر یہ حدیث مشتبہ ہے،نیز اس میں تدلیس ہے۔(مرقات)لہذا اس سے استدلال درست نہیں۔