| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج و عمرہ کی طاقت رکھتے ہیں نہ سوار ہونے کی ۱؎ فرمایا اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
شرح
۱؎ یعنی میرے والد زیادہ بوڑھے ہونے کی وجہ سے نہ تو حج و عمرہ کے ارکان ادا کرسکتے ہیں طواف سعی وغیرہ اور نہ سواری پر بیٹھ سکتے ہیں جو مکہ معظمہ تک پہنچائے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔ غالبًا ان کے والد پر پہلے سے حج فرض تھا کسی مجبوری کی وجہ سے حج نہ کیا تھا ورنہ ایسے بوڑھے پر اگر اس کمزوری میں مال آئے تو حج فرض نہیں۔ ۲؎ یا تو ان کی طرف سے حج و عمرہ خود کردو یا کسی سے کرادو۔خیال رہے کہ حج بدنی و مالی عبادت کا مجموعہ ہے لہذا بوقت مجبوری دوسرا اس کی طرف سے کرسکتا ہے یعنی حج بدل مگر قدرت ہوتے ہوئے خود ہی کرنا ہوگا،محض بدنی عبادات میں نیابت مطلقًا ناجائز ہے اورمحض مالی عبادت میں مطلقًا جائز لہذا کوئی کسی کی طرف سے نماز روزہ کبھی ادا نہیں کرسکتا اور زکوۃ قربانی بہرحال ادا کرسکتا ہے اس کی اجازت سے۔خیال رہے کہ عمرہ فرض یا واجب نہیں سنت ہے لہذا حدیث میں دونوں کا حکم دینا استحبابًا ہے، یعنی بہتر یہ ہے کہ دونوں ہی باپ کی طرف سے ادا کرو،آیت کریمہ"وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِ" میں عمرہ شروع کردینے کے بعد اس کے پورا کردینے کا حکم ہے یعنی جب حج و عمرہ شروع کر دیا تو انہیں ضرور پورا کروں کیونکہ ہر نفل شروع کردینے سے فرض ہوجاتا۔