۱؎ کیونکہ موت آجانے اور مال یا قوت چلے جانے کا ہر وقت اندیشہ و خطرہ ہے اور ایک حج رہ جانے پرسال بھر تک انتظار کرنا ہے سال کس نے دیکھاہے۔فقہا فرماتے ہیں کہ حج علی الفور واجب ہے کہ بلاوجہ دیر لگانا منع ہے،بلکہ امام ابویوسف و امام مالک کے ہاں یہ شخص فاسق ناقابل گواہی ہے،دیگر اماموں کے ہاں فاسق نہیں۔خیال رہے کہ تمام آئمہ کے ہاں حج علی الزمان واجب ہے یعنی جب بھی کرے گا ادا ہی ہوگا،قضا ء نہ ہوگا کہ اس کا وقت عمر بھر ہے۔اس میں اختلاف ہے کہ بلاوجہ دیر لگانا فسق ہے یا نہیں۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو مالدار ہوتے ہیں بچوں کی شادیاں وغیرہ کے لیے حج نہیں کرتے ۔بعض جہلاء میں مشہور ہے کہ حج بڑھاپے میں کرنا چاہیے حالانکہ حج تو جوانی کا ہے جب کہ طواف و سفر بہ آسانی کرسکے اکثر لوگ بڑھاپے کے انتظار میں بغیر حج مرجاتے ہیں۔
۲؎ اسے حاکم نے بھی روایت کیا،بعض روایات میں ہے کہ اس سے پہلے حج کرلو جب کہ حج نہ کرسکو۔