Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
140 - 671
حدیث نمبر140
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ حج و عمرہ ملا کر کرو ۱؎ کہ یہ دونوں غریبی اور گناہوں کو ایسے مٹا دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کو۲؎ ا ور مقبول حج کا ثواب جنت کے سوا اور کچھ نہیں ۳؎(ترمذی،نسائی)اور احمد،ابن ماجہ نے حضرت عمر سے لوہے کے میل تک روایت کی ۴؎
شرح
۱؎ یعنی ایک سفر میں حج و عمرہ دونوں ادا کرلوخواہ قران کرو یا  تمتع،یہ تو باہر والے کے لیے ہوا یا اے مکہ والو حج کے بعد عمرہ بھی کرلو کیونکہ مکہ والوں کو زمانہ حج میں عمرہ منع ہے۔بہرحال یہ حدیث سارے ہی مسلمانوں کے لیے ہے مکی ہوں یا غیر مکی اور اس پر یہ اعترا ض نہیں کہ مکہ والے اس پر کیسے عمل کریں۔

۲؎ خبث،خ،ب کے زبر سے بھی پڑھا گیا ہے اور خ  کے پیش ب کے زبر سے بھی مگر دوسری قرأت زیادہ موزون ہے یعنی قران یا تمتع یا حج و عمرہ ملا کر کرنے سے دل کی اور ظاہری فقیری بھی بفضلہ تعالٰی دور ہوتی ہے اور گناہ بھی معاف ہوتے ہیں اس کا تجربہ بھی ہے۔خیال ر ہے کہ گناہ و فقر دور کرنا رب کا  کام ہے مگر یہاں اسے حج و عمرہ کی طرف نسبت کیا گیا ہے کہ یہ اس کا سبب ہے لہذا کہہ سکتے ہیں کہ اﷲ رسول غنی کردیتے ہیں،رب فرماتا ہے:"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔

۳؎ حج مبرور کی تعریف پہلے ہوچکی کہ یہ وہ ہے جو حلال کمائی اور صحیح طریقہ سے ادا کیا جائے،اخلاص کے ساتھ اور مرتے دم تک کوئی ایسی حرکت نہ ہو جس سے حج باطل ہوجائےیعنی مقبول کا بدلہ صرف دنیاوی غذا اور گناہوں کی معافی یا دوزخ سے نجات یا تخفیف عذاب نہ ہوگا،بلکہ جنت ضرورملے گی۔

۴؎ منذری کی روایت میں ہے کہ جو حج کے لیے اخلاص سے جائے تو  اس کی بخشش بھی ہوگی اوراس کی شفاعت بھی قبول ہوگی اور حاجی گھر واپس آنے تک اﷲ کی امان میں رہتا ہے،حج میں ایک درہم خرچ کرنا دوسرے مقامات پر دس لاکھ درہم خرچ کرنے سے افضل ہے۔
Flag Counter