| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اسلام میں ترک دنیا نہیں ۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ صرورت بروزن ضرورت،صرٌّ سے مشتق ہے بمعنی روکنا یا منع کرنا یا باز رہنا۔ترک دنیا یعنی تَبَّلْ کو بھی صرورۃ کہتے ہیں اور ترک حج کو بھی یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یعنی اسلام میں تارک الدنیا ہو جانا منع ہے کہ کوئی نکاح کرنے یا اچھا کھانا پینا ترک کرنے کا عہد کرے یا اسلام میں قادر و مالدار کو حج نہ کرنا منع ہے۔غالبًا صاحب مشکوٰۃ کے نزدیک صرورت کے یہ ہی معنی ہیں اسی لیے وہ یہ حدیث حج کے بیان میں لائے۔