| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے چار عمرے کیے ۱؎ جو سب ذیقعد میں تھے سوائے اس عمرہ کے جو آپ کے حج کیساتھ تھا ۲؎ حدیبیہ کا عمرہ ذیقعدہ میں سال آئیندہ کا عمرہ ذیقعدہ میں ہی۳؎ اور جعرانہ کا عمرہ جہاں حنین کی غنیمتیں تقسیم فرمائیں وہ بھی ذیقعدہ میں ۴؎ اور ایک عمرہ آپ کے حج کے ساتھ والا ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کل چار عمرے کیے بیرون مکہ سے آکر۔(مرقات) ۲؎ یعنی حج کے ساتھ والا عمرہ تو ذی الحجہ کے مہینہ میں ہوا باقی تین ذیقعدہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں قران کیا تھا یہ ہی قوی ہے۔ ۳؎ مکہ معظمہ سے نو میل دور جانب مدینہ منورہ ایک میدان اور وہاں کے ایک درخت کا نام حدیبیہ ہے اس کا اکثر حصہ حرم شریف میں داخل ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم شروع ذی قعدہ ۶ھ پیر کے دن مدینہ منورہ سے چودہ سو صحابہ کے ہمراہ عمرہ کی نیت سے روانہ ہوئے جب حدیبیہ میں پہنچے تو قریش مکہ نے مسلمانوں کو عمرہ سے روک دیا،آخر کار اس پر صلح ہوئی کہ سال آئندہ عمرہ کریں،اس سال ویسے ہی بغیر عمرہ کیے واپس جائیں،پھر ۷ھ ذیقعدہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرہ قضاء کیا اگرچہ ۶ھ میں عمرہ نہ ہوسکا مگر اسے عمرہ ہی شمار کیا گیا کہ ثواب تو عمرہ کا مل ہی گیا۔غرضکہ بعد ہجرت حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے تین عمرے حقیقی کیے اور ایک عمرہ حکمی کیا۔اس سے مذہب حنفی ثابت ہوا کہ نفلی عبادت شروع کردینے سے واجب ہوجاتی ہے کہ اگر پوری نہ ہو سکے تو قضاء کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ عمرہ نفل تھا جس کے رہ جانے پر قضا کرنی پڑتی ہے۔ ۴؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا تیسرا عمرہ وہ ہے جو جنگِ حنین میں فتح فرمانے کے بعد تقسیم غنیمت فرما کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا کہ بارہ ذیقعدہ ۸ھ میں بعد نماز عشاء مقام جعرانہ سے احرام باندھ کر روانہ ہوئے اور راتوں رات عمرہ کرکے واپس آئے،نماز فجر جعرانہ میں ہی ادا کی،جعرانہ مکہ معظمہ سے قریبًا تین میل طائف کے راستہ پر واقعہ ہے،اب اسے سہل کہتے ہیں،فقیر نے اس میدا ن کی زیارت کی ہے۔ ۵؎ یعنی چوتھا عمرہ ۱۰ھ میں حج کے ساتھ کیا یہ عمرہ شروع ذی الحجہ میں ہوا مگر حجۃ الاسلام حضور نے ایک ہی کیا،ہجرت سے پہلے قریش کے ساتھ بہت حج کیے جن کی تعداد معلوم نہیں۔(اشعہ)