۱؎ یعنی مدینہ والے اگر براستہ شام مکہ معظمہ جائیں کہ ان کی راہ میں ذوالحلیفہ بھی آئے اور حجفہ بھی تو ان پر حجفہ سے احرام باندھنا واجب ہے لیکن اگر ذوالحلیفہ سے ہی احرام باندھ لیں تو بہتر ہے،یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے کہ جو شخص دو میقاتوں سے گزرے اس پر آخری میقات سے احرام باندھنا فرض ہے نہ کہ پہلے میقات پر،امام شافعی کے ہاں پہلے میقات پر احرام باندھنا فرض ہے،یہ حدیث ہماری تائید فرمارہی ہے۔
۲؎ عرق کے لغوی معانی ہیں کنارہ دریا،چونکہ عراق کا علاقہ دجلہ و فرات کے کناروں پر ہے اس لیے اسے عراق کہتے ہیں عراق کی لمبائی عبادان سے موصل تک ہے اور چوڑائی قادسیہ سے حلوان تک ۔ذات عرق،قرن منازل کے مقابل واقع ہے،عراق کے مشہور مقامات بصرہ،بغداد،کربلا،نجف،موصل ہیں۔اگرچہ عراق و شام عہد فاروقی میں فتح ہوئے مگر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو علم تھا کہ یہ علاقے فتح ہوں گے اور یہاں سے حجاج آیا کر یں گے اسی لیے ان کے میقات مقرر فرمادیئے،ان پر عمل عہد فاروقی سے ہوا،جن روایات میں ہے کہ ان دونوں میقاتوں کو حضرت عمر نے مقرر فرمایا وہاں عملی تقرر مراد ہے۔