| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مقام روحاء میں ایک قافلہ سے ملے ۱؎ تو فرمایا یہ کون قوم ہے وہ بولے ہم مسلمان ہیں،پھر بولے آپ کون ہیں فرمایا اﷲ کا رسول ۲؎ تب آپ کی خدمت میں کسی عورت نے ایک بچہ آپ کی طرف اٹھایا بولی کیا اس کا بھی حج ہوسکتا ہے۳؎ فرمایا ہاں تجھے ثواب ہے ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ روحاء مدینہ منورہ سے چھتیس۳۶ یا چالیس میل دور مکہ معظمہ کے راستہ پر ایک منزل ہے،یہاں ہی حضرت آمنہ خاتون کا انتقال ہوا۔ ۲؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم حجۃ الوداع کے لیے تشریف لے جارہے تھے ادھر سے کوئی اور قافلہ بھی حج کے لیے آرہا تھا کہ ملاقات ہوگئی اور یہ سوال و جواب واقع ہوئے۔ ۳؎ غالبًا یہ بچہ شیر خوار تھا اس نے عرض کیا کہ اگر میں اس کا احرام بندھوادوں اور اسے گود میں لے کر سارے ارکان حج ادا کروں تو کیا میرے حج کے ساتھ اس کا حج بھی ہوجائے گا۔ ۴؎ یعنی بچہ کو بھی اس کا ثواب ملے گا حج کرنے کا اور تجھے بھی اس کے حج کا ثواب ملے گا حج کرانے کا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ اگرچہ نابالغ بچہ کا حج ثواب کے لحاظ سے تو ہو جائے گا مگر اس سے حجۃالاسلام ادا نہ ہو گا،بالغ ہونے پر پھر حج کرنے پڑے گا لیکن اگر فقیر یا غلام حج کرے تو ان کا حجۃ الاسلام ادا ہوجائے گا کہ امیر ی یا آزادی کے بعد انہیں دوبارہ حج کرنا ضروری نہیں کہ ہر شخص مکہ معظمہ پہنچ کر وہاں کا ہی مانا جاتا ہے،مکہ کا فقیر یا غلام حج اسلام کرسکتا ہے مگر معظمہ کے چھوٹے بچوں کے حج سے حجۃ الاسلام ادا نہیں ہوتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں کی نیکیوں کا ثواب ماں باپ کو بھی ملتا ہے لہذا انہیں نماز روزہ کا پابند بناؤ۔