۱؎ یہ وہ عورت ہے جس کے متعلق بیہقی شریف میں ہے کہ ایک حسینہ عورت نے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ہی مسئلہ پوچھا حضرت فلت ابن عباس جو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اونٹ پر سوار تھے اسے دیکھنے لگے اور وہ انہیں دیکھنے لگی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت فضل کا منہ دوسری طرف پھیر دیا اور فرمایا کہ زمانہ حج میں جو شخص اپنے آنکھ کان زبان کی حفاظت کرے ان کا مالک رہے تو اس کی ضرور بخشش کی جاتی ہے۔(مرقات وغیرہ)حضرت فضل ابن عباس بھی بہت خوبصورت جوان تھے اس لیے وہ عورت بھی اس طرف دیکھتی تھی۔(اشعہ)
۲؎ یعنی میرے باپ پر بڑھاپے میں حج فرض ہوا ہے یا اس طرح کہ اسلام میں فرضیت حج کا حکم جب آیا تو بڈھے تھے یا اس طرح کہ ان کے پاس مال بڑھاپے میں ہی آیا ہے،یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے حج نہ کیا حتّٰی کہ بڈھا ہوگیا،پہلے معنی پر یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے۔خیال رہے کہ اگر بہت بڑھاپے و معذوری کی حالت میں مسلمان صاحب نصاب ہو جب کہ سواری پر بھی سفر نہ کرسکے تو اما م ابوحنیفہ کے ہاں اس پر حج فرض نہ ہوگا کہ وہ"مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا"میں داخل نہیں۔امام شافعی کے ہاں فرض ہوجائے گا،ہاں صاحبین کے ہاں اگر یہ بڈھا دوسرے ساتھی مددگار کے خرچہ پر بھی قادر ہو تو حج فرض ہوجائے گا۔
۳؎ اس جواب سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ایسا معذور شخص جس میں طاقت آنے کی امید نہ ہو حج بدل کراسکتا ہے،حج نفل میں طاقتور آدمی بھی کراسکتا ہے۔دوسرے ۲یہ کہ عورت مرد کی طرف سے حج کر سکتی ہے اگرچہ مرد وعورت کے طریقہ حج میں قدرے فرق ہوتا ہے۔