Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
122 - 671
حدیث نمبر122
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل بہتر ہے فرمایا اﷲ رسول پر ایمان لانا ۱؎ عرض کیا گیا پھر کون سا فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا،عرض کیا گیا پھر کون سا فرمایا مقبول حج۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ افضل سے مراد درجہ اور ثواب میں زیادہ،چونکہ ایمان عقائد کا نام ہے اور عقیدہ دل کا عمل ہے اس لیے ایمان کو اعمال میں داخل کیا گیا،نحوی لوگ جاننے پہچاننے اور ماننے کو افعال قلوب کہتے ہیں،چونکہ سارے اعمال کی صحت و قبولیت ایمان پر موقوف ہے اس لیے ایمان کا سب سے پہلے ذکر کیا گیا۔

۲؎ اﷲ کی راہ کا جہاد وہ جنگ ہے جس میں محض رب کو راضی کرنا اور اسلام کی اشاعت منظور ہو،مال،ملک،عزت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرنا فتنہ ہے جہاد نہیں۔شعر

جنگ شاہاں فتنہ و غارت گری است		جنگ مؤمن سنت پیغمبری است

چونکہ حج بدنی و مالی عبادات کا مجموعہ ہے اس لیے اس کا بھی بڑا درجہ ہے۔حج مقبول و مبرور وہ ہے جو لڑائی جھگڑے گناہ و ریاء سے خالی ہو اور صحیح ادا کیا جائے۔خیال رہے کہ بعض احادیث میں ایمان کے بعد نماز کا ذکر ہے مگر یہاں جہاد کا ذکر آیا اس لیے کہ جہاد فی سبیل اﷲ اکثر نمازی ہی کرتے ہیں یا بعض ہنگامی حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوجاتا ہے،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوۂ خندق میں زیادہ مشغولیت کی بنا پر پانچ نمازیں قضاء فرمادیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ہنگامی حالات اور ہوتے ہیں معمول پر پہنچنے کے بعد دوسرے حالات۔
Flag Counter