| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اﷲ کے لیے حج کرے تو نہ فحش کلامی کرے نہ فسق کی باتیں تو ایسا لوٹے گا جیسے اسے ماں نے آج جنا ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ حج کے بیان میں رفث سے مراد ہوتا ہے بیوی سے صحبت یا صحبت کے اسباب پر عمل یا صحبت کی گفتگو اور فسق سے مراد ہوتا ہے ساتھیوں سے لڑائی جھگڑا یعنی جو رضائے الٰہی کے لیے حج کرے اور حج کو فحش باتوں،لڑائی جھگڑوں سے پاک و صاف رکھے تو گناہ صغیرہ سے تو یقینًا اور کبیرہ سے احتمالًا بالکل صاف ہوجائے گاحقوق العباد تو ادا ہی کرنا پڑیں گے۔حق یہ ہے کہ تاجر حاجی کو بھی ثواب ملے گا مگر مخلص حاجی سے کم۔(مرقات)