۱؎ مناسك منسك کی جمع ہے جو نسیکہ سے بنا ،نسیکہ کے معنی ہیں عبادت اسی لیے قربانی کو نسیکہ اور قربانی کے وقت یا جگہ کو منسك کہا جاتاہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنۡسَکًا"۔ اب شریعت میں مناسک ارکان حج کو کہتے ہیں یعنی اس باب میں حج کا ذکر ہوگا۔حج کے معنی ہیں قصد اور ارادہ،عبادت کی نیت سے کعبہ شریف کا ارادہ کرنا حج ہے۔حج کا سبب کعبہ معظمہ ہے،کعبہ شریف سب سے پہلے فرشتوں نے بنایا بیت المعمور کے مقابل اسی کا نام فرشتوں کے ہاں ضراح تھا،آدم علیہ السلام کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے سے فر شتے اس کا حج کرتے تھے،پھر آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم تک صرف انبیائے کرام نے حج کعبہ کیا،کسی امت پر حج فرض نہ تھا، ۵ھ یا ۶ھ یا ۹ھ میں مسلمانوں پر حج فرض فرمایا گیا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرضیت حج سے پہلے قبل ہجرت جو حج کیے وہ بطور عادت ِکریمہ تھے،آدم علیہ السلام نے ہندوستان سے پیدل چل کر چالیس حج کیے،حضور علیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں حضرت موسی ٰ علیہ السلام و یونس علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام نے بھی شرکت کی اور حضور علیہ السلام کے ساتھ حج کیا ۔معلوم ہوا کہ انبیائے کرام زندہ ہیں عبادتیں کرتے ہیں مگر ان کی یہ عاہدتیں شرعی تکلیف سے نہیں ان کی خود اپنی خوشی سےہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو حضور علیہ السلام نے ان کی قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔(مرقات و لمعات و اشعہ)
حدیث نمبر121
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ہم پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ پڑھا ۱؎ تو فرمایا اے لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا لہذا حج کرو ۲؎ ایک شخص نے عرض کیا ۳؎ یا رسول اﷲ کیا ہر سال حضور خاموش رہے حتی کہ اس شخص نے تین بار کہا ۴؎ تو فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے ۵؎ پھر فرمایا مجھے چھوڑے رہو جس میں میں تم کو آزادی دوں ۶؎ کیونکہ تم سے اگلے لوگ اپنے نبیوں سے زیادہ پوچھ گچھ اور زیادہ جھگڑنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے ۷؎ لہذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو جہاں تک ہوسکے کر گزرو اور جب تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑدو ۸؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ خطبہ حج فرض ہونے کے سال مدینہ منورہ میں تھا، ۸ھ میں فتح مکہ ہوئی تو بعض لوگوں نے حج کیا، ۹ھ میں حضرت ابوبکر صدیق نے لوگوں کو حج کرایا اور ۱۰ھ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حج فرمایا،ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حج کی فرضیت ۵ھ یا ۶ھ یا ۹ھ میں ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اتنے عرصہ تک حج نہ کرنا اس لیے تھا کہ آپ کو اپنی زندگی اور اپنے حج کرنے کا علم تھا۔حق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت سے پہلے بھی دو یا تین حج کیے ہیں جیساکہ ترمذی،ابن ماجہ و حاکم نے حضرت جابر وغیرہم سے روایت کی۔(مرقات) ۲؎ اگر حج کی فرضیت فتح مکہ سے پہلے ۵ھ یا ۶ھ میں ہوئی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جب تمہیں مکہ معظمہ پہنچنا میسر ہوجائے تو حج کرنا،فرض تو ابھی ہوگیا ہے مگر اس کی ادا جب لازم ہوگی اور اگر فتح مکہ کے بعد ۹ھ میں فرض ہوا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس سال ہی حج کرو۔ ۳؎ یہ عرض کرنے والے حضرت اقرع ابن حابس تھے،وہ سمجھے یہ کہ ہر رمضان میں روزے فرض ہوتے ہیں تو چاہیے کہ بقرعید میں حج فرض ہو کہ پھر یہ سوچا کہ اس میں لوگوں کو بہت دشواری ہوگی کیونکہ روزے تو اپنے گھر میں ہی رکھ لیے جاتے ہیں مگر حج کے لیے مکہ معظمہ جانا پڑتا ہے اور اطراف عالم سے ہر سال بیت اللہ شریف پہنچنا بہت مشکل ہوگا اس لیے آپ نے یہ سوال کیا اور بار بار کیا تاکہ مسئلہ واضح ہوجائے۔ ۴؎ اس سوال پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خاموشی اس لیے تھی کہ سائل سوال سے باز آجائے تاکہ ہم کو جواب کی ضرورت نہ ہو مگر سائل شوق کی زیادتی سے یہ اشارہ نہ سمجھ سکا۔ ۵؎ یعنی پورا جواب تو کیا معنی،اگر ہم صرف ہاں کہہ دیتے تب بھی ہرسال حج فرض ہوجاتا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اﷲ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو احکام شرعیہ کا مالک بنایا ہے کہ آپ کی ہاں اور نہ میں تاثیر ہے جس کے قوی دلائل موجود ہیں کیوں نہ ہو کہ آپ کا کلام وحی الٰہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوۡحٰی"۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "سلطنت مصطفی " میں ملاحظہ فرمایئے۔دوسرے یہ کہ بزرگوں سے اعمال اور وظیفوں میں قید یا پابندی نہ لگوانی چاہیے بلا قید عمل کرنا چاہیے۔ ۶؎ یعنی ہمارے احکام میں کیوں،کیسے اور کب کہہ کر قید نہ لگائیں ہم شرعی احکام کی تبلیغ ہی کے لیے تو بھیجے گئے ہیں ضروری چیزیں ہم خود بیان فرما دیں گے۔(لمعات) ۷؎ اس طرح کہ انہوں نے زیادہ پوچھ پوچھ کر پابندیاں لگوالیں،پھر ان پابندیوں پر عمل نہ کرسکے یا انہوں نے عمل تو کیا مگر بہت مشکل سے جیسے ذبح گائے کا واقعہ ہوا۔ ۸؎ یعنی میرے احکام پر عمل کر نا فرض ہے اور ممنوعات سے بچنا لازم،یہ دونوں کام بقدر طاقت ہیں اگر نماز کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھ لو،اگر جان پر بن جائے تو مردار کھا لو۔اس سے معلوم ہوا کہ جیسے وجوب و فرضیت کے لیے امر ضروری ہے ایسے ہی حرمت و ممانعت کے لیے نہی لازم،جس چیز کا حکم بھی نہ ہو اور ممانعت بھی نہ ہو وہ جائز ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا"۔بعض جو کہتے ہیں کہ جو کام حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ کیا ہو وہ حرام ہے غلط ہے قرآن شریف کے بھی خلاف ہے اور اس قسم کی احادیث کے بھی۔