Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
118 - 671
حدیث نمبر118
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مسلمان کی بیمار پرسی فرمائی جو بہت کمزور ہوگیا تھا ۱؎ کہ چوزہ کی طرح ہوگیا تھا اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تو اﷲ سے کوئی خاص دعا کرتا تھا یا کوئی مانگتا تھا ۲؎ وہ بولا میں یہ کہتا تھا الٰہی تو جو سزا مجھے آخرت میں دینے والا ہو وہ مجھے دنیا میں ہی دے دے ۳؎ تب اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سبحان اﷲ تو اس کی طاقت اور قدرت نہیں رکھتا ۴؎ تو نے یہ کیوں نہ کہا خدایا  ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو  آگ کے عذاب سے بچالے ۵؎ فرماتے ہیں اس نے اﷲ سے یہ ہی دعا مانگی تو اﷲ نے اسے شفا بخشی۶؎ (مسلم)
شرح
۱؎  خفت کے معنی ہیں کمزور آواز جو بمشکل سنائی دے،اہل عرب کہتے ہیں خفت المیت مرنے والا خاموش ہوگیا یعنی وہ بیمار بوجہ کمزوری کے ضعیف الآواز والا ہوگیا تھا جس سے بطور لزوم اس کی کمزوری جسم بھی معلوم ہوگئی لہذا اگلا کلام اس سے پورا ربط رکھتا ہے۔

۲؎ یہاں راوی کو شک ہو اکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یا تو یہ فرمایا کہ تو خاص چیز مانگتا تھا۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کو لوگوں کا حکیم مطلق بنا کر بھیجا،حضور علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے ظاہری و باطنی امراض اور ان کے اسباب جانتے ہیں۔

۳؎  ان صحابی کی یہ عرض و معروض خو ف آخرت اور خوف عذاب کی بنا پر ہے وہ سمجھے یہ تھے کہ گناہوں پر سزا ضرور ملتی ہے،اگر آخرت میں ملی تو سخت اور دیرپا ہوگی  اور اگر دنیا میں ملی تو ہلکی اور عارضی ہوگی کہ موت ہر مصیبت کی انتہا ہے۔ان کی نظر اﷲ کی معافی کی طر ف نہ گئی۔معلوم ہوا کہ ہمیں تو رب تعالٰی سے مانگنا بھی نہیں آتا جب تک کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نہ سکھائیں۔

۴؎ یعنی نہ تو تو دنیا کے عذاب کی طاقت رکھتا ہے اور نہ آخرت کے عذاب کی لہذا یہ کلمہ ممکن نہیں اگرچہ خطاب ان صاحب ہی سے ہے مگر روئے سخن سب کی طر ف ہے یعنی ساری مخلوق اس کے عذاب کی طاقت نہیں رکھتی وہ اپنا کرم ہی کرے۔

۵؎  اس دعا کی شرح پہلے کی جاچکی ہے۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں بھلائی سے مراد گناہوں کی معافی،نعمتوں کی عطاء اور دونوں جہاں کی عافیت و امان ہے۔

۶؎  یا تو  اس دعا ہی کی برکت سے بغیر دوا شفا دی یا کسی دوا کے ذریعہ۔صحیح دوا کا میسر آنا اور اس کی تاثیر رب تعالٰی کے کرم سے ہے،دوسرے معنے مرقات نے اختیار فرمائے مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔
Flag Counter