۱؎ اُعْظِمَ اور اُکْثِرَ باب تفعیل سے بھی ہوسکتے ہیں اور باب افعال سے بھی مگر افعال سے ہونا زیادہ بہتر ہے یعنی الٰہی مجھے بہت نعمتیں دے اور ہر نعمت کے ہر شکر کی توفیق دے،شکر قولی بھی اور شکر عمل کی بھی اور مجھے توفیق دے کہ میں لسانی جنانی ارکانی ہر طرح تیرا ذکر کروں۔ذکر و شکر کی تفصیل ہماری"تفسیرنعیمی"جلد دوم میں دیکھئے۔
۲؎ نصیحت کے معنی ہیں خیر خواہی اور وصیت سے مراد رب کے تاکیدی حکم،چونکہ رب کے ہر حکم میں ہماری خیر خواہی ہے اگرچہ وہ حکم ہم پر گراں ہوں اور ہماری بہت دعائیں جو رد ہوجاتی ہیں۔اس میں بھی ہماری خیر خواہی ہوتی ہے کہ ہم ناسمجھی سے بری چیزیں مانگ لیتے ہیں اس لیے رب کی قضاء پر رضا اور اس کے احکام کی اتباع چاہیے۔