۱؎ علم دل کا رزق ہے عمل بدن کی معنوی روزی اور حلال رزق ان دونوں کی اصل۔حرام روزی سے نہ دل میں نور معرفت پیدا ہو،نہ اعمال میں لذت آئے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بغیر علم نافع کے عمل صالح کی توفیق نہیں ملتی،تم جس کا علم و عمل تو اچھا دیکھو مگر اس کی روزی حرام ہوتو اس کی مچھر کے پر برابر پرواہ نہ کرو۔عبادات خزانہ الٰہی میں محفوظ ہیں،دعا اس خزانہ کی چابی ہے اور رزق حلال اس چابی کے دانتے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اﷲ اس کی نماز قبول نہیں کرتا جس کے پیٹ میں حرام بھرا ہو۔خیال رہے کہ حضور علیہ الصلو ۃ والسلام کی یہ دعا بعد نماز فجر یا تو گھر میں ہوتی تھی یا مسجد میں مگر بلند آواز سے جو گھر تک پہنچ جاتی تھی یا حر ت ام سلمہ خود جماعت کی آخری صفوں میں ہوتی تھیں اس لیے آپ کی دعا سنتی تھی۔