Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
113 - 671
حدیث نمبر113
روایت ہے حضرت عطا بن سائب سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں ہم کو حضرت عمار ابن یاسر نے نماز پڑھائی تو اس میں اختصار فرمایا۲؎ تو ان سے بعض لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے نماز بہت ہلکی اور مختصر پڑھی تو فرمایا مجھے اس کا کوئی نقصان نہیں میں نے اس میں وہ دعائیں مانگ لی ہیں جو میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنیں۳؎ جب آپ اُٹھے تو قوم میں سے ایک شخص آپ کے پیچھے چلا وہ میرے والد تھے،ہاں انہوں نے اپنی ذات کو کنایۃً ذکر کیا ۴؎ تو ان سے وہ دعا پوچھی پھر آئے وہ دعا قوم کو بتائی ۵؎  الٰہی اپنے علم غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے صدقہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک کہ زندگی کو میرے لیے بہتر جانے اور وفات دے دے جب موت کو میرے لیے بہتر جانے ۶؎ الٰہی میں تجھ سے تیرا خوف مانگتا ہوں ظاہر و باطن میں ۷؎ اور تجھ سے خوشی و ناخوشی میں سچی بات کی توفیق مانگتا ہوں۸؎ اور تجھ سے امیری غریبی میانہ روی مانگتا ہوں ۹ ؎ اور تجھ سے نہ مٹنے والی نعمت مانگتا ہوں اور تجھ سے وہ آنکھ کی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو بند نہ ہو ۱۰؎ اور تجھ سے رضا بقضا مانگتا ہوں اور تجھ سے بعد موت کے ٹھنڈی زندگی مانگتا ہوں ۱۱؎  اور تجھ سے تیری ذات کو دیکھنے کی لذت اور تیری ملاقات کا شوق مانگتا ہوں بغیر مضر چیز کے نقصان اور بغیر گمراہ کن فتنہ کے ۱۲؎  اے اﷲ ہم کو ایمان کی زینت سے آراستہ کر ۱۳؎ اور ہم کو ہدایت دینے والے ہدایت پانے والا بنا۱۴؎ (نسائی )۱۵؎
شرح
۱؎ حضرت عطاء تابعی ہیں اور ان کے والد سائب ابن یزید صحابی ہیں کہ ان کی پیدائش    ۳ھ؁  میں ہوئی ا ور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ کی عمر سات سال تھی اپنے والد  یزید کے ساتھ اس حج میں شریک ہوئے تھے۔(مرقات)

۲؎ غالبًا یہ کوئی نفل نماز تھی،بعض نوافل کی جماعت اہتمام سے بھی جائز ہے جیسے نماز کسوف اور بلا اہتمام تو ہر نفل کی جماعت جائز آپ نے یا تو اس نماز کی قرأت قرآن میں اختصار کیا یا دعائیں تھوڑی مانگیں۔لمعات نے پہلی بات کو ترجیح دی اور مرقات نے دوسری کو۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ارکان نماز بھی صحیح طور پر ادا نہ کیے کہ یہ صحابہ کی شان سے بعید ہے۔

۳؎ اس اَمَا میں شارحین نے بہت احتمال نکالے ہیں۔ظاہر تر یہ ہے کہ ہمزہ نداء قریب کا ہے اور مَانافیہ یعنی اے دوست اس اختصار میں کوئی نقصان نہیں کیونکہ میں نے وہ دعائیں پڑھ لی ہیں جن سے اس مختصر تلاوت یا چھوٹی دعاؤں کا بدلہ ہوجائے گا کہ ان کے الفاظ تھوڑے ہیں اور ثواب و فائدے زیادہ۔ظاہر یہ ہے کہ یہ دعائیں نماز کے اندر ہی مانگی تھیں،سجدے یا سلام سے پہلے قعدہ میں۔

۴؎ ھُوَ اَبِی سے یہاں تک کلام عطاء کا ہے یعنی میرے والد کہتے تھے کہ قوم میں سے ایک شخص حضرت عمار کے پیچھے دعا پوچھنے کے لیے گئے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جانے والے والد سائب ہی تھے،انہوں نے اپنا نام نہ لیا بلکہ ایک شخص کہہ دیا تاکہ اپنی بڑائی ظاہر نہ ہو۔

۵؎ بعض صحابہ کی ہیبت زیادہ تھی کہ ان سے ہر شخص بات نہیں پوچھ سکتا تھا اس لیے صرف حضرت سائب نے پوچھا وہ بھی علیحدہ جا کر۔خیال رہے کہ یہ دعا تو ایک ہی ہے مگر اس میں مانگی بہت چیزیں گئی ہیں اسی لیے یہاں دعا واحد فرمایا اور وہاں دعوات جمع۔

۶؎ بِعِلْمِكَ میں ب استعطاف کی ہے یعنی اپنے علمِ غیب اور اپنی قدرت کے صدقہ میں مجھے یہ نعمتیں بخش۔معلوم ہوا کہ صفات الٰہی کو وسیلہ بناسکتے ہیں۔خیال رہے کہ جب تک بندہ کو نیکیوں کی توفیق ملے اور دنیا میں فتنہ نہ پھیلے اور بندہ دوسروں پر بوجھ نہ بنے تب تک تو زندگی موت سے افضل ہےاور جب ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات فوت ہوجائے تو موت زندگی سے بہتر ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ شر کی زندگی سے خیر کی موت اچھی۔شعر

وانکہ خوابش بہتر از بیداری است		زاں چناں بد زندگانی مردہ بہ

۷؎ درمیا ن دعا میں باربار ربّنا یا اللّٰہم کہنا سنت ہے،اس میں دعا کی قبولیت کی قوی امید ہے اسی طرح ہر عوض کے اول واوبولنا بھی بہتر ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:"رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدۡتَّنَا"ظاہر و باطن سے مراد یا تو علانیہ و خفیہ ہے یا قالب و قلب یعنی الٰہی مجھے ہر حال میں اپنا خوف دے خواہ لوگوں کے سامنے ہوں یاتنہائی میں یا میرا دل و جسم دونوں پر تیرا خوف ہو کہ دل میں ڈر ہو،آنکھیں تر ہوں،دل میں درد ہو،منہ میں آہ سرد ہو۔

۸؎ یعنی خلق مجھ سے راضی ہو یا ناراض میں حق بات کہوں یا میں لوگوں سے راضی ہوں یا ناراض ہر حال میں حق بولوں،نہ میں حق کو چھوڑوں نہ حق مجھے چھوڑے۔

۹؎ یعنی امیری غریبی میں مجھے روزی،گفتار،رفتار،خرچ وغیرہ میں درمیانی چال چلنے کی توفیق دے کہ نہ تو امیری میں فضول خرچ بن جاؤں،نہ غریبی میں ننگا بھوکا ہوجاؤں،درمیانی چال اﷲ کی رحمت ہے جسے نصیب ہوجائے۔

۱۰؎ یعنی جنت کی لازوال نعمتیں اور وہاں کی پاک بیویاں مانگتا ہوں جو آنکھ کی ٹھنڈک کا باعث ہوں یا نہ مٹنے والی مؤمن نسل یا نماز دائمی کی توفیق مانگتا ہوں،اولاد ازواج،نماز سب کچھ آنکھ کی ٹھنڈک ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوٰجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ"۔خیال رہے کہ دنیا کی ہر چیز کو فنا ہے،آخرت کی ہر چیز کو بقا۔ریا کی عبادات دنیا میں فنا ہوجائیں گی،اﷲ کے لیے کھانا پینا بھی آخرت کا توشہ ہے اور لافانی ہے،گھڑے کا پانی فانی ہے نلکے کا پانی باقی ہے کہ مرکز سے وابستہ ہے ہم کو حضور علیہ السلام سے وابستگی چاہیے جو عزت و عظمت وغیرہ کا مرکز ہیں۔

۱۱؎ یعنی برزخ و محشر میں آرام کی زندگی کا طلبگار ہوں۔

۱۲؎ یعنی مجھے آخرت میں اپنا دیدار دے اور دنیا میں شوق دید نصیب کر مگر ایسا شوق دے جو مجھے سیرالی اﷲ سے منع نہ کر دے،جذب نہیں مانگتا سلوک مانگتا ہوں۔

۱۳؎ جسم کی ظاہری زینت لباس اور زیور سے ہے،دل کی زینت ایمان سے اور بدن کی حقیقی زینت نیک اعمال سے ہے،خدایا تو مجھے جسمانی و دلی زینت نصیب کر۔

۱۴؎  اس طرح کہ ہم خود بھی ہدایت پر ہیں اور دوسروں کوبھی ہدایت پر رکھیں۔

۱۵؎ اسے حاکم،احمد اور طبرانی نے بھی روایت کیا۔
Flag Counter