Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
112 - 671
حدیث نمبر112
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے داؤد علیہ السلام کی دعا یہ تھی کہ آپ عرض کرتے تھے الٰہی میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں ۱؎ اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۲؎ الٰہی مجھے اپنی محبت کو میری جان و مال گھر  بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنادے ۳؎ راوی فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب داؤد علیہ السلام کا ذکر فرماتے تو کہتے کہ وہ عابد ترین انسان تھے ۴؎ (ترمذی )اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎ اس جملہ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ مجھے توفیق دے کہ تجھ سے بھی محبت کروں اور ان بندوں سے بھی جو تجھ سے محبت کرتے ہیں علماء،اولیاء،انبیاء سے محبت بالواسطہ تجھ سے ہی محبت ہے۔دوسرے یہ کہ خدایا مجھ سے تو بھی محبت کر  اور تیرے محبوب بندے بھی محبت کریں یعنی حبّ کی اضافت یا مفعول کی طرف ہے یا فاعل کی طرف۔

۲؎ اس کے بھی وہی دو معنی ہیں کہ ایسے عمل کی توفیق دے جس کی برکت سے تو میرا محبوب بن جائے یا میں تیرا محبوب بن جاؤں۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال میں عشق و محبت پیدا کرنے کی تاثیر ہوتی ہے۔

۳؎ یعنی مجھے توفیق دے کہ تو مجھے میری اپنی ذات گھر بار مال و دولت سے زیادہ پیارا ہوجائے بلکہ جیسے سخت گرمی اور پیاس کی شدت میں ٹھنڈا پانی پیار اہوتا ہے،اس سے زیادہ تیری محبت مجھے پیاری ہو۔خیال رہے کہ محبوبیت کے لیے اس کے محبوب بندوں کی محبت لازم ہے۔شعر

حاصل نشود رضائے سلطاں		تا خاطر بندگاں بخوئی

۴؎ یعنی داؤد علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عابد تھے جیسے رب تعالٰی بنی اسرائیل سے فرماتا ہے:"اَنِّیۡ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ"لہذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ داؤد علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام یا ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے زیادہ عابد ہوں اور نہ یہ فرمان اس آیتِ کریمہ کے خلاف ہے جس میں نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں فرمایا گیا:"اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوۡرًا"۔
Flag Counter