روایت ہے حضرت عثمان ابن حنیف سے فرماتے ہیں ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۱؎ عرض کیا حضور اﷲ سے دعا کریں کہ مجھے آرام دے ۲؎ فرمایا اگر تو چاہے تو دعا کردوں اور اگر چاہے تو صبر کر یہ صبر تیرے لیے اچھا ہے ۳؎ وہ بولا حضور رب سے دعا کردیں۴؎ راوی کہتے ہیں تو حضور نے اسے حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرے اور یہ دعا مانگے ۵؎ الٰہی میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف رحمت والے نبی حضور محمد مصطفی کے توسل سے متوجہ ہوتا ہوں۶؎ یارسول ا ﷲ میں آپ کے توسل سے اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں تاکہ وہ میری حاجت پوری کردے ۷؎ الٰہی میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ۸؎(ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ شخص بالکل نابینا تھا،بعض شارحین نے جو کہا کہ وہ ضعیف البصر تھے یا ان کی ایک آنکھ بکاور تھی خلاف ظاہر ہے۔ ۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بیماریوں کی شکایت حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے کرتے تھے اور اکثر براہ راست خود رب تعالٰی سے دعا نہ مانگتے تھے بلکہ عرض کرتے تھے کہ حضور ہمارے لیے دعا مانگیں تاکہ الفاظ کے ساتھ زبان کی برکت و تاثیر بھی حاصل ہو،یہ ہے توسل کا عقیدہ،رب تعالٰی کی کوئی نعمت بغیر وسیلہ نہیں ملتی۔ ۳؎ کیونکہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ جس کی آنکھیں میں بیکار کردوں پھر اس پر صبر کرےتو میں اسے جنت ہی دوں گا،آنکھوں سے جنت بہتر ہے۔ ۴؎ ان نابینا صحابی کا مطلب یہ تھا کہ حضور مجھے آنکھیں بھی مل جائیں اور آخرت کی بھلائی بھی،آپ کے پاس کس چیز کی کمی ہے۔شعر جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے ہمیں معلوم ہے دولت تری عادت تری یا یہ مطلب تھا کہ حضور کے صدقہ مجھے آخرت کی نیکیاں تو مل ہی گئی ہیں کہ مجھے رب تعالٰی نے ایمان دیا،تقویٰ بخشا،آپ کی صحابیت نصیب کی میری یہ ضرورت بھی پوری ہوجائے لہذا نہ تو سائل پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح کیوں دی۔حق یہ ہے کہ انہوں نے تو اس آیت پر عمل کیا"رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ"اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل شریف پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ آپ نے ایسے شخص کو دعا کیوں سکھائی،سرزنش کیوں نہ کی،نیز اس عرض میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم صبر سے سرتابی نہیں ہے انہیں صبرکا حکم دیا ہی کب گیا،بطور مشورہ اختیار دیا گیا تھا بلکہ ناز غلامانہ کے انداز پر داتا سے زیادہ مانگنا ہے جیسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حج کے موقعہ پر عرفات میں حاجیوں کی بخشش کی دعا کی،حقوق اﷲ معاف کیے گئے پھر مزدلفہ میں حقوق العباد کی معافی کے لیے بھی دعا فرمائی۔ ۵؎ یعنی مسواک اور تمام سنتوں کے ساتھ وضو کرکے دو رکعت نماز حاجت پڑھے پھر یہ دعا مانگے۔(مرقات )معلوم ہوا کہ دعا کے لیے وضو اور نفل بہتر ہے۔خیال رہے کہ اس موقعہ پر انہیں سرکار نے خود دعا نہ دے دی بلکہ دعا اور اپنے وسیلہ کے الفاظ انہیں سکھائے تاکہ قیامت تک کہ مسلمان اس سے فائدہ اٹھائیں،اگر سرکار خود ہی دعا دے دیتےتو بعد والے لوگ یہ فیض کیسے پاتے۔بعض شارحین نے یہاں فرمایا کہ سرکار ان پر ناراض ہوگئے تھےکیونکہ انہوں نے حضور علیہ السلام کی بات نہ مانی اس لیے دعا نہ فرمائی مگر یہ صحیح نہیں،ورنہ سرکار نہ انہیں دعا سکھاتے نہ انہیں اپنے وسیلہ کی تعلیم دیتے۔ ۶؎ یعنی تیری بارگاہ میں براہ راست بغیر وسیلہ نہیں حاضر ہوا ان کا وسیلہ لے کر آیا ہوں جو خود رحمۃ للعالمین ہیں اوران کی امت امت مرحومہ ہے یعنی تو ا رحم الرحمین ہے اور تیرے نبی رحمۃ للعلمین ہیں اور میں تیرے فضل و کرم سے مرحوم۔ ۷؎ بِكَ میں حضور سے عرض معروض ہے،بعض روایتوں میں یوں ہے یا محمد انی توجھت بك الی ربی لتقضی الخ ت کے ساتھ۔ (مرقات)اس لتقضی میں دو احتمال ہیں:واحد مؤنث مجہول ہو یعنی تاکہ میری حاجت پوری کردی جائے یا واحد مخاطب معروف ہو یعنی یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم آپ میری حاجت پوری کردیں،اس آخری معنی کی تائید قرآن شریف کی اس آیت سے ہوتی ہے"لَئِنۡ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ"اے موسیٰ علیہ السلام اگر آپ نے ہم سے عذاب دور کردیا تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔مذکورہ آیت و حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ کے محبوبین بحکم پروردگار دافع بلاء اور صاحب عطا ہیں اور حاجتوں میں انہیں پکارنا جائز ہے کیونکہ یہ دعا قیامت تک کے مسلمان پڑھ سکتے ہیں اور اس میں حضور علیہ السلام کو پکارا بھی گیا ہے اور حضور علیہ السلام کا وسیلہ بھی لیا گیا ہے۔ ۸؎ سبحان اﷲ! اس دعا میں تین خطاب ہیں آگے پیچھے رب سے اور بیچ میں اس کے حبیب سے جیسے انگوٹھی کے وسط میں نگینہ۔