Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
108 - 671
حدیث نمبر108
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم بہت کم کسی مجلس سے اٹھتے حتّٰی کہ اپنے صحابہ کے لیے یہ دعائیں مانگ لیتے ۱ ؎ الٰہی ہمیں اپنے خوف سے وہ حصہ عطا فرما جس سے تو ہمارے اور اپنی نافرمانیوں کے درمیان آڑ ہو جائے ۲؎ اور اپنی اطاعت سے وہ حصہ دے جس سے ہمیں تو اپنی جنت میں پہنچا دے ۳؎ اور یقین کا وہ حصہ دے جس سے تو ہم پر دنیاوی مصیبتیں آسان کردے ۴؎ اور ہمیں ہمارے کانوں اور آنکھوں اور قوت سے نفع دے جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ۵؎ اور اسے ہمارا وارث بنا ۶؎ اور ہمارا غضب اس پر ڈال جو ہم پر ظلم کرے ۷؎ اور ہم کو ان پر فتح دے جو ہم سے دشمنی کریں ۸؎ اور ہمارے دین میں ہم پر مصیبت نہ دے ۹؎ اور دنیا کو ہمارا نہ بڑا مقصود بنا اور نہ ہمارے علم کا منتہا بنا۱۰ ؎ ہم پر اسے مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کرے ۱۱؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے ۱۲؎
شرح
۱؎ یعنی اکثرکسی مجلس سے اٹھتے وقت سرکار یہ دعا مانگ لیتے تھے اور یہ سب کچھ صحابہ کرام کی اور ان کے ذریعہ ہماری تعلیم کے لیے تھا۔خیال رہے کہ حضور علیہ السلام کی جن دعاؤں میں مغفرت کی طلب یا گناہوں کا اقرار ہے ان سب میں تعلیم اُمت مقصود ہے ورنہ سرکار خود معصوم ہیں بلکہ ارادۂ  گناہ سے محفوظ ہیں۔

۲؎ یعنی ہم سب کو اپنا دلی خوف دے جس کی بر کت سے ہم گناہوں سے محفوظ رہیں۔تَحُوْلُ واحد مخاطب ہے اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ خوفِ خدا اللہ کی نعمت ہے اور اس خوف کے بعد بھی ہمیں گناہوں سے رب ہی بچاتا ہے ہم خود نہیں بچتے،مطلقًا خوفِ خدا تو شیطان کو بھی حاصل ہے،رب تعالٰی نے اس کا قول قرآن پاک میں نقل فرمایا:"اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ"خوف خدا  اور عشق جناب مصطفی اﷲ کی بڑی نعمتیں ہیں۔

۳؎ یعنی ہمیں اپنی بندگی کی توفیق بھی دے اور اسے قبول بھی فرما،یہاں بھی وہی اشارہ ہے کہ فقط عبادت جنت میں پہنچنے کے لیے کافی نہیں،مؤمن جنات اور فرشتوں کی عبادتیں انہیں جنتی نہیں بناتی۔

۴؎ رب تعالٰی نے قرآن کریم میں ہر مصیبت کے بعد دو۲ آسانیوں کی بشارت دی ہے"فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا"خدایا ہمیں اس بشارت پر ایسا یقین ہوجائے کہ ہم ہر مصیبت کو  آئندہ راحت کا پیش خیمہ سمجھیں جس کی وجہ سے یہ زحمت رحمت بن جائے۔شعر

ناخوش اور خوش بود در جان من			جان فدائے یار دل رنجان من

۵؎ یعنی ہمیں توفیق دے کہ اپنے حواس و قوتوں کے ذریعہ دنیوی و اخروی نفع اٹھائیں کہ انہیں تیری طاعتوں میں صرف کریں۔

۶؎ اس جملہ کی بہت شرحیں ہیں،بہترین شرح یہ ہے کہ وارث سے مراد میراث ہے یعنی ہمارے تقویٰ اور مذکورہ نفع کو ہماری میراث بھی بنا کہ ہمارے بعد لوگ ہماری ان صفات کو اختیار کرلیں اور فائدے اٹھائیں،ہماری میراث صرف مال نہ ہو بلکہ مال،حال،اعمال،کمال اور خوف ذوالجلال سب کچھ ہماری میراث ہو۔خیال رہے کہ میراث اضطراری صرف یعنی رشتہ داروں کو ملتی ہے مگر میراث اختیاری تا قیامت سارے انسانوں کو۔کنویں،مساجد،سرائیں،قبرستان،وغیرہ موقوفہ چیزوں سے سبھی فائدہ اٹھاتے ہیں،یہ مال کی میراث اختیار ی ہے،علمائے کے علم،صوفیاء کے تقوےٰ  اور حضور علیہ السلام کے کمالات سے تاقیامت دنیا فائدہ اٹھائے گی،سخیوں کی کمائی میں فقیر وں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔شعر

ہاتھ اٹھا کر ایک ٹکڑا اے کریم			ہیں سخی کے مال میں حقدار ہم

۷؎ یعنی ہمیں توفیق دے کہ ہم بدلہ لینے میں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑیں صرف ظالم سے ہی بدلہ لیں،جاہلیت والوں کی طرح ایک فرد کا بدلہ ساری قوم سے نہ لیں۔ثار کے لغوی معنی ہیں کینہ،غصہ اور بدلہ،اس جملہ کی اور بھی شرحیں کی گئیں ہیں مگر یہ شرح بہتر ہے۔

۸؎ اس طرح کہ ہمیں ذاتی دشمنوں کو معاف کرنے کی ہمت دے اور قومی و دینی دشمنوں کو مغلوب کرنے کی طاقت دے۔

۹؎ یعنی ہم پرایسی مصیبت نہ بھیج جو ہمارا دین برباد کردے کہ ہمیں بدعقیدہ بنادے یا ناقص کردے کہ ہم حرام کھانے لگیں یا عبادات میں کوتاہی کرنے لگیں۔

۱۰ ؎ یعنی نہ تو ہمارا یہ حال ہو کہ مال،عزت،سلطنت وغیرہ ہمارا اصل مقصد بن جائے اور نہ یہ حال ہو کہ ہمارے علم اور فکر دنیا ہی کے لیے وقف ہوں یا فقط ہم دنیاوی علوم ہی پڑھیں دینی علوم کی طرف توجہ ہی نہ دیں اور دینی علم بھی سیکھیں تو صرف اپنی تعظیم کرانے اور مال کمانے کے لیے،ر ب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ"۔اس دعا میں اشارۃً فرمایا گیا کہ دنیا کا قصد اور علم سے دنیا حاصل کرنا قدرے جائز ہے بلکہ اگر یہ دنیا دین کے لیے ہو تو  اس کا طلب کرنا عبادت ہے،دنیا صفر ہے اور دین عدد،صفر اگر اکیلا ہو تو کچھ بھی نہیں اور اگر عدد سے مل جائے تو اسے دس گناہ کردیتی ہے۔

۱۱؎ یعنی دنیا میں ہم پر نفس امارہ،شیطان،کافر و ظالم سلطان کو مسلط نہ کر  اور قبر و حشر میں عذاب کے فرشتوں کو ہم پر مقرر نہ فرما لہذا یہ جملہ نیا ہے پہلے جملوں کا تکرار نہیں۔

۱۲؎ اسے نسائی نے اور حاکم نے علٰی شرط بخاری نقل فرمایا۔
Flag Counter