| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن یزید خطمی سے ۱؎ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے الٰہی مجھے اپنی محبت نصیب کر اور اس کی محبت بھی جس کی محبت تیرے ہاں نفع دے ۲؎ الٰہی مجھے جو تو میری پسندیدہ چیز دے تو اس میں مجھے اس کی قوت بخش جسے تو پسند فرماتا ہے ۳؎ الٰہی جو میری محبوب چیز تو مجھ سے دور رکھے تو اسے میرے لیے اپنی محبوب چیز میں فراغت بنادے۴؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ خطم قبیلہ اوس کی ایک شاخ ہے،یہ عبداﷲ انصاری ہیں،سترہ سال کی عمرمیں صلح حدیبیہ میں حاضر ہوئے۔ ۲؎ اس عبارت کی دو تفسیریں ہوسکتی ہیں:ایک یہ کہ تو اور تیرے پیارے بندے مجھ سے محبت کریں۔دوسرے یہ کہ میں تجھ سے اور تیرے پیارے بندوں سے محبت کروں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ"۔دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں یعنی مجھے ان لوگوں ان چیزوں ان اعمال کی محبت دے جن کی محبت آخرت میں فائدہ مند ہو۔انبیاء،اولیاء،قرآن مجید،کعبہ معظمہ،نماز،روزہ تمام کی محبتیں اس میں شامل ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض چیزوں کی محبت نقصان دہ ہے،بعض کی بے فائدہ اور بعض کی محبت دنیا میں مفید ہے،بعض کی آخرت میں آخری محبت مانگے۔ ۳؎ یعنی جو منہ مانگی مراد تو مجھے دے اسے اپنی رضا میں صر ف کرنے کی توفیق بھی دے،جسمانی قوت،اولاد،مال کو ہمیشہ تیری راہ میں خرچ کروں تاکہ میں غنی شاکر بن جاؤں۔ ۴؎ یعنی اگر تو میری کسی آرزو کو پورا نہ کرے اور میری منہ مانگی مراد نہ دے تو مجھے اپنی دی ہوئی نعمتوں اور عبادتوں میں اتنا مشغول کردے کہ مجھے اس کی ضرورت ہی نہ رہے تاکہ میں مسکین صابر بنوں،میرا دل اس مانگی مراد میں مشغول نہ رہے تاکہ میری عبادتیں ناقص نہ ہوں،رضاء بالقا ء اﷲ کی نعمت ہے۔