| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم یہ فرمایا کرتے تھے الٰہی تو مجھے اس سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھایا اور مجھے نافع چیزیں سکھا اور میرا علم بڑھا ۱؎ ہر حال میں اﷲ کا شکر ہے ۲؎ اور دوزخیوں کے حال سے اﷲ کی پناہ لیتا ہوں۳؎ (ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے۔
شرح
۱؎ علم چند قسم کے ہیں:نقصان دہ،بکاحر،صرف اپنے کو نافع دوسروں کو بھی نافع،یہاں چوتھی قسم کے علم کی طلب ہے،بعض علم اوروں کو مفید خود اپنے کو مضر یا بکا:ر ہیں اس سے بھی اﷲ بچائے،جیسے بد عمل یا بے عمل عالم کا عمل۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ عالم بے عمل ایسا ہے جیسے شب تار میں اندھا شمع دار۔ ۲؎ یعنی رنج و خوشی،تنگی و فراخی میں اﷲ کا شکر (عمل)جو شخص چھینک پر"اَلْحَمْدُﷲِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ"کہہ کر سارے دانتوں پر زبان پھیرے تو ان شاءاﷲ اس کے دانت خراب نہ ہوں گے اور اگر ساتھ ہی ہر وضو میں مسواک بھی کیا کرے تو سبحان اﷲ! ۳؎ دنیا میں کفر و فسق اور آخرت میں عذاب و عقاب دوزخیوں کے حالات ہیں ان سب سے اﷲ بچائے۔