| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ ا یک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا،عرض کیا یارسول اﷲ دعا کون سی افضل ہے ۱؎ فرمایا اپنے رب سے دنیا و آخرت میں امن و چین مانگو۲؎ پھر وہ دوسرے دن حاضر ہوا عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کون سی دعا افضل ہے حضور نے اسی طرح پھر فرمایا ۳؎ پھر وہ تیسرے دن حاضر ہوا پھر اسی طرح عرض کیا حضور نے فرمایا کہ جب تجھے دنیا و آخرت میں امن و معافی دے دی جائے تو تو کامیاب ہو جائے گا۴؎ (ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے اسناد سے غریب ہے ۵ ؎
شرح
۱؎ یعنی مجھے کون سی دعا زیادہ فائدہ مند ہے یا سارے لوگوں کے لیے ساری دعاؤں میں سے کون سی افضل۔اس سوال سے معلوم ہوا صحابہ کرام کا عقیدہ یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہیں،ہم غلطی سے نقصان دہ دعائیں بھی مانگ لیتے ہیں،حضور کی بتائی ہوئی دعا میں یہ احتمال نہیں اسی لیے دعائے ماثور جو بزرگوں سے منقول ہو غیر ماثورہ سے افضل ہے۔ ۲؎ یعنی دین و بدن میں امن اور مخلوق کی شر سے چین کہ کوئی جن و انس ہمیں بے چین نہ کرسکے،نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ ۳؎ خیال یہ تھا کہ شاید لمبی چوڑی دعائیں جن میں وقت بہت صرف ہومانگنی چاہئیں اس مختصر دعا کی اہمیت نہ سمجھ سکے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا منشا یہ تھا کہ میرے غلام کام کاج والے ہیں انہیں چھوٹی مگر جامع دعائیں بتائی جائیں تاکہ ان کے دنیوی کام بھی بند نہ ہوں اس لیے یہ سوال جواب واقع ہوئے۔ ۴؎ کیونکہ معافات میں جسمانی،روحانی،نفسانی،شیطانی تمام آفتوں سے سلامتی شامل ہے جسے ان تمام آفات سے امن مل گئی،اس کے لیے باقی کون سی چیز رہ گئی اس لیے لمبی دعا کی خواہش نہ کر۔ ۵؎ خیال رہے کہ اسنادًا غریب کی تمیز ہے نہ کہ حسن کی کیونکہ غرابت کبھی متن حدیث میں ہوتی ہے کبھی اسناد حدیث میں مگر حسن صرف اسناد ہی کے لحاظ سے ہوتی ہے نہ کہ متن کے،اس کے لیے اسنادًا کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔طبرانی میں حضرت عباس سے روایت اس طرح ہے کہ ایک بار میں نے بارگاہِ اقدس میں عرض کیا کہ یارسول اﷲ مجھے کچھ دعا سکھائیے،سرکار نے فرمایا اﷲ سے عافیت مانگو،کچھ روز بعد پھر میں حاضر ہوا اور میں نے یہ ہی عرض کیا تو فرمایا کہ چچا جان عافیت کی دعا زیادہ مانگا کروکیونکہ یہ دعا مقاصد حاصل کرنے اور بلائیں دفع کرنے کے لیے کافی ہیں۔