Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
105 - 671
حدیث نمبر105
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر قیام فرما ہوئے پھر روئے  ۱؎  تو فرمایا اﷲ سے معافی اور امن مانگو ۲؎ کیونکہ کسی کو  ایمان  کے بعد امن سے بہتر کوئی نعمت نہ ملی ۳؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے حسن ہے،غریب ہے۔
شرح
۱؎ حضور علیہ السلام کا یہ رونا اپنی امت کے آئندہ حالات ملاحظہ فرما کر تھا کہ اکثر لوگ فتنوں،شہوت مال کی حرص،اقتدار کی خواہش میں گرفتار ہوجائیں گے۔(مرقات)

۲؎ معافی سے مراد مو( ذنوب و ستر عیوب ہے اور عافیت سے یہ مراد ہے کہ لوگ تم سے ا ور تم لوگوں سے امن میں رہو یا دین کا فتنوں سے اور بدن کا سخت بیماریوں سے محفوظ رہنا یعنی گناہوں سے معافی اور زندگی،موت،قبر،حشر کی آفتوں سے سلامتی مانگو۔(لمعات)

۳؎ حق یہ ہے کہ ایمان بھی عافیت ہی کے لیے اختیار کیا جاتا ہے اور ایمان کے معنی ہی ہیں اپنے کو آفتوں سے امن و عافیت دینا۔
Flag Counter