۱؎ حضور علیہ السلام کا یہ رونا اپنی امت کے آئندہ حالات ملاحظہ فرما کر تھا کہ اکثر لوگ فتنوں،شہوت مال کی حرص،اقتدار کی خواہش میں گرفتار ہوجائیں گے۔(مرقات)
۲؎ معافی سے مراد مو( ذنوب و ستر عیوب ہے اور عافیت سے یہ مراد ہے کہ لوگ تم سے ا ور تم لوگوں سے امن میں رہو یا دین کا فتنوں سے اور بدن کا سخت بیماریوں سے محفوظ رہنا یعنی گناہوں سے معافی اور زندگی،موت،قبر،حشر کی آفتوں سے سلامتی مانگو۔(لمعات)
۳؎ حق یہ ہے کہ ایمان بھی عافیت ہی کے لیے اختیار کیا جاتا ہے اور ایمان کے معنی ہی ہیں اپنے کو آفتوں سے امن و عافیت دینا۔