۱؎ دنیا میں انسان سوار کی طرح ہے،مسافر کی سواری کتنی ہی اچھی ہو لیکن اگر اسے راستہ صحیح نہ ملے یا صحیح راستہ تو ملے مگر اس پر صحیح چل نہ سکے،تو کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔اس دعا کا مقصد یہ ہے کہ مولٰی مجھے اپنے تک پہنچنے والا راستہ بھی دکھا اور دکھا کر اس پر چلنے کی توفیق بھی نصیب کرے۔
۲؎ یعنی جب یہ دعا مانگو تو ہدایت سے راہ الٰہی مراد لو جس پرچلنے سے رب تعالٰی تک پہنچا جاسکے اور درستی و سیدھائی سے کامل درستی اور پورا سیدھا پن مراد لو،تیر کی تشبیہ سے یہ ہی مراد ہے اس جملہ کی اور شرحیں بھی کی گئی ہیں مگر یہ شرح بہت قوی ہے۔