۱؎ یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی کامل مؤمن بھی ہو اور ہمیشہ کا بخیل اور بدخلق بھی،اگر اتفاقًا کبھی اس سے بخل یا بدخلقی صادر ہوجائے تو فورًا وہ پشیمان بھی ہوجاتا ہے اس کے ایک معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مؤمن نہ بخیل ہوتا ہے نہ بدخلق،جس دل میں ایمان کامل جاگزیں ہو تو اس دل سے یہ دونوں عیب نکل جاتے ہیں۔(لمعات)خیال رہے کہ بدخلقی اور ہے غصہ کچھ اور،اﷲ تعالٰی کے لیے غصہ کرنا عبادت ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ"۔ہماری اس شرح سے حدیث پر نہ یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ بعض مؤمن بخیل بھی ہوتے ہیں اور بدخلق بھی کیونکہ وہ یا تو مؤمن کامل نہیں ہوتے یا ان کے یہ عیب عارضی ہوتے ہیں اور نہ یہ اعتراض رہا کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے کہ قرآن کریم نے بعض غصوں کی تعریف فرمائی ہے۔