Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
99 - 5479
حدیث نمبر 99
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں نہ تو فریبی آدمی جائے نہ کنجوس نہ احسان جتلانے والا ۲؎(ترمذی)
شرح
۱؎ آپ کا نام شریف عبداﷲ ابن عثمان(ابوقحافہ)ابن عامر عمرو ابن کعب ابن سعد ابن تمیم ابن مرہ ہے،آپ ساتویں دادا یعنی مرہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتے ہیں،آپ کی کنیت ابوبکر اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عطا فرمائے ہوئے القاب صدیق اکبر اور عتیق ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوؤں میں شریک رہے،اسلام سے پہلے اور اسلام لانے کے بعد کبھی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہ ہوئے،سب سے پہلے آپ ہی ہجرت میں حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار کہلائے،آپ ہی افضل الخلق بعد الانبیاء ہیں،عثمان غنی آپ کی تبلیغ سے ایمان لائے،حضرت بلال اور عامر فہیرہ رضی اللہ عنہما جیسے شاندار صحابہ آپ کے آزاد کردہ غلام ہیں، آپ چار پشت کے صحابی ہیں،ماں باپ صحابی خود اور سارے گھر والے صحابی،ساری اولاد صحابی پوتے نواسے صحابی،ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ ہی کی دختر نیک اختر ہیں،آپ کے فضائل میں بہت آیات اتریں،رب تعالٰی نے آپ کو ثانی اثنین فرمایا یعنی زندگی وفات وقبر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ثانی۔شعر

یعنی اس افضل الخلق بعد الرسل 		ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام

اسلام لانے والے رسول اﷲ ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور پھیلانے والے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ،فاروقی فتوحات کی بنیاد آپ ہی نے ڈالی،آپ مکہ معظمہ میں واقعۂ فیل سے دو سال پونے پانچ ماہ بعد پیدا ہوئے اور مدینہ منورہ میں بائیس جمادی الآخرہ     ۱۳ھ؁ منگل کی رات مغرب اورعشاء کے درمیان وفات پائی،آپ کی بیوی اسماء بنت عمیس نے آپ کو غسل دیا،عمر فاروق نے نماز جنازہ پڑھائی،۶۳سال عمر پائی،دو سال کچھ مہینے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں چھوٹے تھے وہی حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پورے کئے اور پھر ہمیشہ کے لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں گنبد خضراء کے اندر آرام فرما ہوگئے۔ آپ کے فضائل آسمان کے تاروں اور ریگستانوں کے ذروں سے زیادہ ہیں،آپ سے بہت کم احادیث مروی ہیں۔(اکمال وغیرہ)

۲؎  یعنی جو ان عیبوں پر مر جائے وہ جنتی نہیں کیونکہ وہ منافق ہے،مؤمن میں اولًا تو یہ عیب ہوتے نہیں اور اگر ہوں تو رب تعالٰی اسے مرنے سے پہلے توبہ نصیب کردیتا ہے۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا آدمی جنت میں پہلے نہ جائے گا،احسان جتانے سے طعنہ دینا مراد ہے ورنہ بعض صورتوں میں احسان جتانا عبادت ہے جب کہ اس سے سامنے والے کی اصلاح مقصود ہو،رب تعالٰی فرماتاہے:"بَلِ اللہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمْ اَنْ ہَدٰىکُمْ لِلْاِیۡمٰنِ"۔
Flag Counter