| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کی مثال جو مرتے وقت خیرات یا آزاد کرے اس کی سی ہے جو اپنے پیٹ بھر جانے پر کسی کو ہدیہ دے ۱؎ (احمد،نسائی،دارمی،ترمذی نے اسےصحیح کہا)
شرح
۱؎ کہ اگر ہدیہ لینے والا غنی بھی ہو اور دینے والے کے اس طرز عمل سے خبرداربھی تو وہ اس کی قدر نہیں کرتا وہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے نفس کو مجھ پر مقدم رکھا اورسمجھا کہ یہ بچی چیز برباد ہوجائے گی لاؤ فلاں کو ہی بھیج دو،اسی طرح رب تعالٰی غنی بھی ہے اور ہماری نیتوں سے خبردار بھی۔صدقات اس کی بارگاہ میں ہدیے ہیں اگر ان کی بارگاہ الٰہی میں قدر چاہتے ہو تو تندرستی میں بھیجو کہ وہاں اخلاص دیکھا جاتا ہے۔شعر مابروں راننگریم وقال را مادروں رابنگریم و حال را