| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے صدقہ کا بڑا ثواب ہے ۱؎ فرمایا یہ کہ تم اپنی تندرستی اور بخل کی حالت میں صدقہ کرو جب کہ تمہیں فقیری کا ڈر اور امیری کی امید ہو۲؎ اور اتنی دیر نہ لگاؤ کہ جب جان گلے میں پہنچے تو تم کہو کہ فلاں کو اتنا دینا اور فلاں کو اتنا۳؎ حالانکہ وہ فلاں کا ہو ہی چکا ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ صدقہ سے مراد صدقہ نفلی ہے،چونکہ یہ بہت سی قسم کا ہوتا ہے اور اس کے مختلف حالات ہوتے ہیں اس لیے انہوں نے یہ سوال کیا یعنی کس وقت کی کون سی خیرات بہتر ہے مسجد بنانا کنواں یا سرائے تیار کرنا یا کسی کو کھانا یا کپڑا دینا وغیرہ۔ ۲؎ نہایت حکیمانہ جواب ہے یعنی تندرستی کا ہر صدقہ افضل ہے کیونکہ اس وقت خود اپنے کو بھی مال کی ضرورت ہوتی ہے۔بخل سے مراد فطری محبت مال ہے یعنی تندرستی میں جب تمہیں خودبھی ضرورت ہے اپنی ضرورت پر دیں یا فقیر کی ضرورت کو مقدم رکھنا بڑی ہمت ہے اور اس کی بارگاہ الٰہی میں بڑی قدر ہے،شیطان بھی اسی وقت بہکاتاہے کہ ارے تیرے سامنے اتنے خرچ ہیں مت خیرات کر۔ ۳؎ ظاہر یہ ہے کہ فلاں سے مراد موصیٰ لہ ہے جس کے لیے وصیت کی جائے اور اتنے سے مراد مال کی مقدار ہے یعنی تم وارثوں سے کہو کہ میرا اتنا مال میرے بعد فلاں فلاں جگہ خرچ کرنا اور ممکن ہے کہ فلاں سے مراد مقرلہ ہو یا وارث کیونکہ وارث کو وصیت جائز ہے جب کہ دوسرے ورثاء راضی ہوں۔ (اشعہ وغیرہ) ۴؎ یہاں فلاں سے مراد وارثین ہیں یعنی اب تم وصیت کرو یا نہ کرو تمہارے پاس سے مال چلدیا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرض الموت کی حالت ہی میں بیمار کے مال میں وارثوں کا حق ہوجاتا ہے اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ بیمار صرف تہائی مال کی وصیت کرسکتا ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ اس حالت کے صدقہ و خیرات کا ثواب بہت کم ہےکیونکہ اب خود اسے ضرورت نہ رہی انسان کو چاہیے کہ تندرستی اور زندگی کو غنیمت سمجھے جو ہوسکے نیکیاں کرلے۔شعر توشۂ اعمال اپنا ساتھ لے جاؤ ابھی کون پیچھے قبر میں بھیجے گا سوچو تو سہی بعد مرنے کے تمہیں اپنا پرایا بھول جائے فاتحہ کو قبر پر پھر کوئی آئے یا نہ آئے