۱؎ آپ صحابی ہیں،حضرت عمر ابن خطاب کے سوتیلے بیٹے حضرت عبداﷲ بن عمر کے اخیافی بھائی،کوفہ میں قیام رہا۔
۲؎ کُمْ سے مراد ساری امت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے نہ کہ صحابہ کیونکہ مال کی یہ فراوانی قریب قیامت حضرت امام مہدی کے زمانہ میں ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ صحابہ سے ہی خطاب ہو اور سیدنا خضر علیہ السلام اس میں داخل ہوں کہ وہ بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور وہ یہ زمانہ پائیں گے کہ ان کی وفات بالکل قیامت سے متصل ہوگی۔
۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ قبول نہ کرناغنا کی وجہ سے ہوگا کہ سارے لوگ اتنے مالدار ہوجائیں گے کہ آسانی سے کوئی زکوۃ لینے والا نہ ملے گا۔اس حدیث کی روش سےمعلوم ہورہا ہے کہ اس وقت بھی فقیر ملیں گے تو مگر بہت تلاش اور دشواری سے ورنہ مالداروں پر زکوۃ فرض نہ رہتی جیسے جس کے اعضائے وضو ایسے زخمی ہوں جن پر نہ پانی پہنچے سکے نہ تیمم کا ہاتھ پھیر سکےتو اس پر وضو اور تیمم دونوں معاف ہوجاتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقراء کا ہونا بھی اﷲ کی رحمت ہے کہ ان کے ذریعہ ہم بہت سے فرائض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس زمانے کے لوگ زاہد،صابر اور تارک الدنیا ہوجائیں گے جو زکوۃ لینا پسند کریں گے ہی نہیں۔واﷲ اعلم!