Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
91 - 5479
حدیث نمبر 91
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا ۱؎ اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کردیا کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی حرام کو حلال جانا ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ ظلم کے لغوی معنے ہیں کسی چیز کو بے موقعہ استعمال کرنا اورکسی کا حق مارنا۔اس کی بہت قسمیں ہیں: گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے،قرابت داروں یا قرض خواہوں کا حق نہ دینا ان پر ظلم،کسی کو ستانا ایذاء دینا اس پرظلم،یہ حدیث سب کو شامل ہے اور حدیث اپنے ظاہری معنے پر ہے یعنی ظالم پلصراط پر اندھیریوں میں گھرا ہوگا،یہ ظلم اندھیری بن کر اس کے سامنے ہوگا جیسے کہ مؤمن کا ایمان اور اس کی نیک اعمال روشنی بن کر اس کے آگے چلیں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَسْعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ"چونکہ ظالم دنیا میں حق ناحق میں فرق نہ کرسکا اس لیے اندھیرے میں رہا۔

۲؎  عربی میں شح بخل سے بدتر ہے،بخل اپنا مال کسی کو نہ دینا ہے اور شح اپنا مال نہ دینا اور دوسرے کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا ہے۔غرضکہ شح بخل،حرص اور ظلم کا مجموعہ ہے اسی لیے یہ فتنوں فساد،خون ریزی و قطع رحمی کی جڑ ہے،جب کوئی دوسروں کا حق ادا نہ کرے بلکہ ان کے حق اور چھیننا چاہے تو خواہ مخواہ فساد ہوگا۔
Flag Counter