۱؎ ظلم کے لغوی معنے ہیں کسی چیز کو بے موقعہ استعمال کرنا اورکسی کا حق مارنا۔اس کی بہت قسمیں ہیں: گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے،قرابت داروں یا قرض خواہوں کا حق نہ دینا ان پر ظلم،کسی کو ستانا ایذاء دینا اس پرظلم،یہ حدیث سب کو شامل ہے اور حدیث اپنے ظاہری معنے پر ہے یعنی ظالم پلصراط پر اندھیریوں میں گھرا ہوگا،یہ ظلم اندھیری بن کر اس کے سامنے ہوگا جیسے کہ مؤمن کا ایمان اور اس کی نیک اعمال روشنی بن کر اس کے آگے چلیں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَسْعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ"چونکہ ظالم دنیا میں حق ناحق میں فرق نہ کرسکا اس لیے اندھیرے میں رہا۔
۲؎ عربی میں شح بخل سے بدتر ہے،بخل اپنا مال کسی کو نہ دینا ہے اور شح اپنا مال نہ دینا اور دوسرے کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا ہے۔غرضکہ شح بخل،حرص اور ظلم کا مجموعہ ہے اسی لیے یہ فتنوں فساد،خون ریزی و قطع رحمی کی جڑ ہے،جب کوئی دوسروں کا حق ادا نہ کرے بلکہ ان کے حق اور چھیننا چاہے تو خواہ مخواہ فساد ہوگا۔