Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
90 - 5479
حدیث نمبر 90
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں ۱؎جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں۲؎ سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دو شخصوں کے پورے حال سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی کنجوس اور سخی کی حالتیں ان دو شخصوں کی سی ہیں جن کے جسم پر دو لوہے کی زر ہیں ہیں،انسان کی خلقی اور پیدائشی محبت مال اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے زرہ جسم کو گھیرے اور چمٹی ہوتی ہے ایسی محبت مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ"۔بعض لوگوں نے اسے جبتان ب سے پڑھا مگر جنتان صحیح ہے ن سے۔

۲؎  تراقی ترقوت کی جمع ہے۔ترقوت وہ ہڈی ہے جو سینہ سے اوپر اور گردن کے نیچے ہے،چونکہ یہ ہڈیاں گردن کے دو طرفہ ہوتی ہیں اس لیے دو آدمیوں کی چار ہڈیاں ہوں گی اس لحاظ سے تراقی جمع ارشاد ہوا۔اِضْطُرَّتْ مجہول فرماکر اشارۃً یہ بتایا کہ انسان کا یہ بخل قدرتی ہے اختیاری نہیں۔

۳؎  سبحان اﷲ! کیا نفیس تشبیہ ہے یعنی بخیل بھی کبھی خیرات کرنے کا ارادہ تو کرتا ہے مگر اس کے دل کی ہچکچاہٹ اس کے ارادہ پر غالب آجاتی ہے اور وہ خیرات نہیں کرتا اور سخی کو بھی خیرات کرتے وقت ہچکچاہٹ تو ہوتی ہے  مگر  اس  کا  ارادہ  اس  پر  غالب  آجاتا ہے  اسی غلبہ  پر سخی ثواب پاتا ہے پھر سخاوت کرتےکرتےنفس امارہ اتنا دب جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیرات پرہچکچاہٹ پیدا ہی نہیں ہوتی،یہ بہت بلند مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کھلے دل سے صدقہ کرنے لگتا ہے ہر عبادت کا یہی حال ہے کہ پہلے نفس امارہ روکا کرتا ہے مگر جب اس کی نہ مانی جائے تو پھر روکنا چھوڑ دیتا ہے،نفس کی مثال شیر خوار بچے کی سی ہےجو دودھ چھوڑتے وقت ماں کو بہت پریشان کرتا ہےمگر جب ماں اس کی ضد کی پرواہ نہیں کرتی تو وہ پھر دودھ نہیں مانگتا۔
Flag Counter