۱؎ مشکوٰۃ شریف کے عام نسخوں اور مرقا ت میں بھی قال اﷲ تعالٰی نہیں ہے مگر اشعۃ اللمعات میں یہ جملہ موجود ہے۔شیخ نے بھی فرمایا کہ ظاہر یہی ہے کہ یہ حدیث بھی قدسی ہے اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ابن آدم سے خطاب فرماسکتے ہیں۔
۲؎ یعنی اپنی ضروریات سے بچا ہوا مال خیرات کردینا خود تیرے لیے ہی مفید ہے کہ اس سے تیرا کوئی کام نہ رکے گا اور تجھے دنیا و آخرت میں عوض مل جائے گا اور اسے روکے رکھنا خود تیرے لیے ہی برا ہے کیونکہ وہ چیز سڑ گل یا اور طرح ضائع ہوجائے گی اور تو ثواب سے محروم ہوجائے گا اسی لیے حکم ہے کہ نیا کپڑا پاؤ تو پرانا بیکار کپڑا خیرات کردو نیا جوتا رب تعالٰی دے تو پرانا جوتا جو تمہاری ضرورت سے بچا ہے کسی فقیر کو دے دو کہ تمہارے گھر کا کوڑا نکل جائے گا اور اس کا بھلا ہوجائے گا۔
۳؎ اس میں دو حکم بیان ہوگئے:ایک یہ کہ جو مال اس وقت تو زائد ہے کل ضرورت پیش آئے گی اسے جمع رکھ لو آج نفلی صدقے دے کر کل خود بھیک نہ مانگو۔دوسرے یہ کہ خیرات پہلے اپنے عزیز غریبوں کو دو پھر اجنبیوں کو کیونکہ عزیزوں کو دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی اس کا ذکر آئندہ بھی آئے گا۔