Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
88 - 5479
حدیث نمبر 88
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالٰی نے فرمایا ہے اے انسان خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  سبحان اﷲ! کیسی نظر کرم ہے۔مقصد یہ ہے کہ اے انسان ختم ہونے اور مٹ جانے والا مال تو میری راہ میں دے میں تجھے اس سے کہیں زیادہ مال بھی دوں گا اور نہ مٹنے والا ثواب بھی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَاعِنۡدَکُمْ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللہ بَاقٍ"۔(ازمرقات)خیال رہے کہ جس فانی چیز کو رب تعالٰی قبول فرمالے وہ باقی ہوجاتی ہے،دنیا صِفر ہے یعنی خالی رضائے الٰہی عدد،صفر اکیلا ہو تو کچھ نہیں اور اگر عدد سے مل جائے تو دس گُنا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ صدقہ سے تقدیر بدل جاتی ہے بدنصیب نصیب ور ہو جاتے ہیں۔تقدیر کی پوری بحث ہماری کتاب "تفسیرنعیمی"جلد دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔
Flag Counter