Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
87 - 5479
حدیث نمبر 87
روایت ہے حضرت اسماء سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب خرچ کرو مت گنو ورنہ اﷲ تعالٰی بھی شمار فرمائے گا  ۱؎ اور نہ بچاؤ ورنہ اﷲ بھی تم سے بچائے گا جتنا کرسکتی ہو راہِ خدا میں دو ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اے اسماء اپنے مال میں سے مطلقًا اور اپنے خاوند کے مال سے بقدر اجازت خرچ کرتی رہونفلی صدقہ کا حساب نہ لگاؤ ورنہ شیطان دل میں بخل پیدا کردے گا لہذا یہ حدیث زکوۃ کے حساب کے خلاف نہیں،بے حساب اﷲ کے نام پر دو تو وہاں سے تمہیں اتنا ملے گا کہ تم حساب نہ کرسکو گی،یہ مطلب نہیں کہ رب تعالٰی کے حساب سے باہر ہوگا۔کھیت میں پانی دیتے وقت ایک شخص کنوئیں سے پانی چھوڑتا ہے اور دوسرا کیاریوں میں پھیلاتا ہے جب تک یہ پھیلاتا رہتا ہے وہاں سے پانی آتا رہتا ہے،دینی راستے اﷲ کی کیاریاں ہیں مالدار لوگ ان میں پانی پھیلانے والے ہیں اور روزی پہنچانے والے فرشتے پانی چھوڑنے والے۔

۲؎  یعنی یہ خیال نہ کرو کہ اتنی تھوڑی اور معمولی چیز اتنی بڑی بارگاہ میں کیا پیش کر وں وہاں مال کی مقدار نہیں دیکھی جاتی دل کا اخلاص دیکھا جاتاہے۔خیال رہے کہ رب تعالٰی فرماتاہے:"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ"جب تک کہ اپنی پیاری چیز خیرات نہ کرو بھلائی نہیں پاسکتے،اور جہاں حکم دیا گیا کہ جو ہوسکے خیرات کرو ان دونوں میں تعارض نہیں۔آیت کا منشاء یہ ہے کہ ہمیشہ معمولی چیز ہی خیرات نہ کرو اچھی چیزیں بھی خیرات کرو اور اس حدیث کا منشاء یہ ہے کہ بڑی چیز کی انتظار میں چھوٹی خیراتوں سے باز نہ رہو جو چیز کھانے پینے سے بچ رہی اس کے بگڑ جانے کا خطرہ ہے فورًا کسی کو دے دو ورنہ برباد ہوجائے گی۔
Flag Counter