Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
77 - 5479
حدیث نمبر 77
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک انصاری شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مانگنے کے لیے آیا ۱؎ آپ نے فرمایا کہ کیا تیرے گھر میں کچھ نہیں ۲؎ عرض کیا ہاں ایک ٹاٹ ہے جو ہم کچھ بچھالیتے ہیں کچھ اوڑھ لیتے ہیں۳؎ اور ایک پیالہ جس میں پانی پیتے ہیں اور فرمایا وہ دونوں ہمارے پاس لے آؤ وہ یہ دونوں چیزیں حاضر لائے انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا یہ کون خریدتا ہے۴؎ ایک شخص نے کہا ایک درہم میں مَیں لیتا ہوں آپ نے دو یا تین بار فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے۵؎ ایک صاحب بولے کہ میں دو درہم میں لیتا ہوں آپ نے فرمایا یہ دونوں چیزیں انہیں دے دو ۶؎ اور دو درہم ان انصاری کو دیئے اور فرمایا ان میں سے ایک کا غلہ خریدکر اپنے گھر میں ڈال دے اور دوسرے کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس  لا ۷؎  وہ حضور  کے پاس کلہاڑی لائے حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ اقدس سے اس میں دستہ ڈالا۸؎ پھر فرمایا جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور اب میں تمہیں پندرہ دن نہ دیکھوں۹؎ پھر وہ صاحب لکڑیاں کاٹتے اور بیچتے رہے پھرحاضرہوئے اور دس درہم کما چکے تھے اس نے کچھ درہموں سے کپڑا اور کچھ سے غلہ خریدا ۱۰؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے یہ اس سے بہتر ہے کہ سوالات قیامت کے دن تمہارے منہ میں داغ بن کر آئیں ۱۱؎ تین شخصوں کے سواء کسی کو سوال جائز نہیں کمر توڑ فقیری یا رسوا کن قرض یا تکلیف دہ خون سے ۱۲؎(ابوداؤد)اور ابن ماجہ نے یوم القیامت تک روایت کی۔
شرح
۱؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ تشریف آوری سے پہلے لوگ قرض و سوال میں گھرے ہوئے تھے۔چنانچہ یہود کے ہاں کی بہت زمینیں جائیدادیں،مال،مکان وغیرہ گِرو پڑے تھے،سوال کرلینے کا عام رواج تھا کیونکہ اکثر لوگ بہت غریب و نادار تھے اسی سلسلے میں یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سوال کرنے حاضر ہوئے۔

۲؎  سبحان اﷲ! یہ ہے بگڑی قوم کا بنانا،یہاں یہ ممکن تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اسے کچھ دے دیتے مگر وہ چند روز میں کھاکر برابرکردیتا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقہ سے اس کی بلکہ اس کی نسل کی زندگی سنبھال دی فقیر کو دے دینا آسان مگر اس کی زندگی سنبھال دینا بہت مشکل ہے۔تجربہ ہے کہ پہاڑ ڈھا دینا اور دریا پاٹ دینا آسان مگر بگڑی قوم کو سنبھال دینا مشکل۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام ایسی خوش اسلوبی سے انجام دیئے جس کی مثال نہیں ملتی۔

۳؎ حلس ح کے کسرہ سے ٹاٹ کو بھی کہتے ہیں اور موٹے کمبل کو بھی جو اونٹ کی پیٹھ پر پالان کے نیچے ڈالا جاتا ہے یہاں دونوں معنے کا احتمال ہے۔بھلا غریبی کی حد ہوگئی کہ اس اﷲ کے بندے کی سارے گھر میں کُل کائنات یہ دو چیزیں ہیں،حالت یہ کہ ایک ہی کمبل کو آدھا بچھا کر خود بیوی بچے سب لیٹ جاتے اور اسی کا آدھا یہ سب اوڑھ لیتے جیساکہ نَبْسُطُ کے جمع متکلم سے معلوم ہورہا ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غریبوں کو تخت و تاج کا مالک بنایا ہے۔

۴؎ اگرچہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ سرکار اس مسکین سے ہی فرمادیتے کہ یہ دونوں چیزیں بیچ کر کلہاڑی خرید لو جس سے لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور اپنا کام چلاؤ مگر اس صورت میں وہ اہمیت ظاہر نہ ہوتی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل شریف سے ظاہر ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ صرف کہہ دینے سے قوم کی اصلاح نہیں ہوتی اس کے لیے کچھ کرکے بھی دکھانا پڑتا ہے،مبلغین قولی تبلیغ پر کفایت نہ کریں بلکہ عملی تبلیغ بھی کریں۔

۵؎ اس سے نیلام کا بھی ثبوت ہوا جسے عربی میں بیع مَنْ یَزِیْد کہتے ہیں اور نیلام میں باربار بولی مانگنا بھی ثابت ہوا یہ دونوں چیزیں سنت سے ثابت ہیں۔

۶؎ خیال رہے کہ جس حدیث میں دوسرے کے بھاؤ پر بھاؤ چڑھانا منع فرمایا گیا وہاں وہ صورت مراد ہے جہاں تاجروخریدار راضی ہوچکے ہوں اور یہ چڑھا کر ان کا بھاؤ بگاڑ دے یہاں یہ صورت نہیں،یہاں تو تاجر خود بھاؤ چڑھانے کا مطالبہ کررہا ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس حدیث سے بیع معاطات(جسے بیع تعاطی بھی کہتے ہیں)ثابت ہوئی یعنی زبان سے ایجاب و قبول نہ کرنا صرف لین دین سے بیع کردینا جیسا آج کل عام طور پر ہوتا ہے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نہ اس سے ایجاب کرایا نہ خود قبول فرمایا صرف لے دے کر بیع کردی۔

۷؎  یعنی ایک درہم کے جَو خرید کر اپنی بیوی کو دے تاکہ وہ پیس پکا کر خودبھی کھائے تجھے اور بچوں کو بھی کھلائے اور دوسرے درہم کی کلہاڑی خرید کر مجھے دے جا اور روٹی کھا کر پھر آنا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ فقیر نادار پر بھی بیوی بچوں کا خرچہ واجب ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ بیوی سے بھی کمائی کرا۔دوسرے یہ کہ کمانا صرف مرد پر لازم ہےنہ کہ بیوی پر کہ حضور ا نور صلی اللہ علیہ وسلم نے کلہاڑی صرف مرد کو دی دو کلہاڑیاں لے کر عورت و مرد میں تقسیم نہ فرمائیں۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو لڑکیوں سے کمائی کرانے کے لیے بی اے،ایم اے کرارہے ہیں اور جو ضروری مسائل لڑکیوں کو سیکھانا فرض ہیں ان سے بالکل بے خبر ہیں۔

۸؎  اس سے معلوم ہوا کہ جس سے کوئی کام کاج شروع کرایا جائے ا س کی کچھ بدنی امداد بھی کی جائے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اس کی مالی امداد نہ کی بلکہ بدنی امداد فرمائی کیونکہ مالی امداد سے اس کے مانگنے کی عادت نہ چھوٹتی،اب اسے عبرت ہوگئی کہ جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے ہاتھ سے اتنا کام کرسکتے ہیں تو میں کیوں نہ محنت کروں۔

۹؎  اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنگلی لکڑیاں شکاری جانوروں کی طرح عام مباح ہیں جو قبضہ کرلے وہ اس کا مالک ہے کہ وہ اسے بیچ بھی سکتا ہے۔دوسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم با فرمان الٰہی مالک احکام ہیں،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ان پندرہ دنوں کی جماعت سے نماز معاف فرمادی حتی کہ درمیان میں جمعہ بھی آیا وہ بھی اس کے لیے معاف رہا،اسی دوران میں اسے مسجد نبوی میں آنا ممنوع ہوگیا کیونکہ اس کو فرمایا گیا تجھ کو میں دیکھو نہیں،اب اگر وہ مسجد میں حاضر ہوتے تو اس ممانعت کے مرتکب ہوتے،انہوں نے اس زمانہ میں دن کی نماز جنگل میں اور رات کی گھر پڑھیں۔

۱۰؎  اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت پندرہ دن تک مسجد میں قطعًا حاضر نہ ہوئے ورنہ اگر اس دوران میں جماعت عشاء کے لیے بھی کبھی آئے ہوتے تو اس کا ضرور یہاں ذکر ہوتا اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ان سے روزانہ کا حساب پوچھتے،یہ ان کی خصوصیت میں سے ہے،اب کسی تاجر یا پیشہ ور کو یہ جائز نہیں کہ کاروبار میں مشغول ہو کر جماعت ترک کرے۔

۱۱؎ یعنی حلال پیشہ خواہ کتنا ہی معمولی ہو بھیک مانگنے سے افضل ہے کہ اس میں دنیا و آخرت میں عزت ہے۔افسوس آج بہت سے لوگ اس تعلیم کو بھول گئے،مسلمانوں میں صدہا خاندان پیشہ وربھکاری ہیں۔

۱۲؎  تکلیف دہ فقیری میں فاقہ اور فقیر کی معذوری یعنی بے دست و پا ہونا دونوں شامل ہیں اور رسوا کن قرض سے وہ قرض مراد ہے جس میں قرض خواہ مہلت نہ دے،مقروض کی آبرو ریزی پر تیار ہو۔تکلیف دہ خون سے یہ مراد ہے کہ اس نے کسی کو قتل کردیا جس کی دیت اس پر لازم ہوئی،اس کے پاس نہ مال ہے نہ اہل قرابت،یہ تینوں آدمی بقدر ضرورت سوال کرسکتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ پابندیاں مانگنے کے لیے ہیں زکوۃ لینے کے لیے نہیں۔
Flag Counter