Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
76 - 5479
حدیث نمبر 76
روایت ہے حضرت حبشی ابن جنادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ تو غنی کو سوال جائز ہے نہ درست اعضاء والے کو مگر زمین سے ملے ہوئے فقیر یا رسوائی والے مقروض کو ۲؎ اور جو لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگے تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے کے کھرونچے ہوں گے اور دوزخ کے انگارے جسے وہ کھائے گا اب جو چاہے وہ کم کرے جو چاہے بڑھائے۳؎(ترمذی)
شرح
۱؎ ان کی کنیت ابو الجنوب ہے،قبیلہ بنی بکر ابن ہوازن سے ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں دیکھا،آپ کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔

۲؎ یہ استفتاء صحیح الاعضاء سے ہے یعنی تندرست آدمی ان دونوں صورتوں میں مانگ سکتا ہے،ایک سخت فقیر جو اسے خاک نشین بنادے جس سے وہ نہ کہیں کاروبار کر سکے نہ کمانے کے لیے سفر،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْ مِسْکِیۡنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ"۔ایسا مقروض جس کے قرض خواہ اس کی آبرو کے درپے ہوگئے ہوں وہ اگرچہ تندرست ہے مگر ان مصیبتوں کے دفعیہ کے لیے مانگ سکتا ہے۔

۳؎یہ آخری جملہ اختیار دینے کے لیے نہیں بلکہ اظہار غضب کے لیے ہے،جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنۡ شَآءَ فَلْیُؤْمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ"۔ رِضْفٌ رِضْفَۃٌ کی جمع ہے،رضفہ وہ تیز گرم پتھر ہے جس سے دودھ ابالا جاتاہے۔
Flag Counter