۱؎ یعنی اپنی غریبی کی شکایت لوگوں سے کرتا پھرے اور بے صبری ظاہر کرے اور لوگوں کو اپنا حاجت رواں جان کر ان سے مانگنا شروع کردے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ اسے مانگنے کی عادت پڑ جائے گی جس میں برکت نہ ہوگی اور ہمیشہ فقیر ہی رہے گا۔
۲؎ یعنی جو اپنا فاقہ لوگوں سے چھپائے،رب تعالٰی کی بارگاہ میں دعائیں مانگے اور حلال پیشہ میں کوشش کرے تو رب تعالٰی اسے مانگنے کی ضرورت ڈالے گا ہی نہیں،اگر اس کے نصیب میں دولت مندی نہیں ہے تو اسے ایمان پر موت نصیب کرکے جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور اگر دولتمندی نصیب میں ہے تو وہ جلدی نہ سہی دیر سے ہی عطا فرمادے گا کہ اس کی کمائی میں برکت دے گا۔ہماری اس تقریر سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ موت سے غنا کیسے حاصل ہوتی ہے کیونکہ پہلے غنا سے مراد مالداری نہیں بلکہ لوگوں سے بےنیازی ہے۔ خیال رہے کہ آدمی مرکر لوگوں کے مال سے بے نیاز ہوجاتا ہے اگرچہ ان کے ایصال ثواب کا منتظر رہتا ہے،یہاں مالی غنا مراد ہے۔