| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عطاءبن یسار سے وہ بنی اسد کے ایک شخص سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے جو مانگے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر ہوں تو وہ زاری سے مانگتا ہے ۲؎(مالک و ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ عطاءابن یسار تابعی ہیں اور ان کے شیخ جن کا انہوں نے نام نہ لیا صرف یہ کہہ دیا کہ بنی اسد کے ایک صاحب وہ صحابی ہیں،چونکہ صحابہ سارے ہی عادل ہیں کوئی فاسق نہیں اس لیے ان کا نام یا حال معلوم نہ ہونا حدیث کی صحت کے لیے مضر نہیں،نہ ایسے صحابی کو مجہول کہا جاسکتا ہے نہ حدیث کو۔(مرقات) ۲؎ یعنی قرآن شریف میں جو وارد ہوا"لَا یَسْئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلْحَافًا"۔اس الحاف میں بے ضرورت مانگنا بھی داخل ہے،اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس تعیین کی وجہ ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی ہے۔