| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت سہل ابن حنظلیہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مانگے حالانکہ اس کے پاس بقدرغنا ہو تو وہ آگ بڑھاتا ہے ۱؎ نفیلی نے فرمایا جو دوسری جگہ اس حدیث کے ایک راوی ہیں ۲؎ وہ غنا کیا ہے جس کے ہوتے سوال مناسب نہیں فرمایا اس قدر کہ صبح شام کھائے اور دوسری جگہ فرمایا کہ اس کے پاس ایک دن یا ایک دن و رات کی سیری ہو۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ اس سے معلوم ہورہا ہےکہ بلاضرورت سوال حرام ہےکیونکہ خصوصیت سےسخت عذاب کی وعید وارد ہوئی۔ آگ بڑھانے سے مراد آگ کی تیزی،بھڑک،شعلے بڑھانا۔ ۲؎ نفیلی کا نام عبداﷲ ابن محمد ہے،ابوداؤد سجستانی کے استاد ہیں،نفیل ان کے کسی دادا کا نام ہے۔ ۳؎ ا س کی شرح ابھی گزر گئی کہ دن رات کی خوراک کی حد ہرشخص کے لیے جداگانہ ہے،بڑے کنبہ والے کے لیے زیادہ مال ہے درمیانے کے لیے درمیانہ ایک دو آدمیوں کے لیے معمولی یہاں خاص آفت زدہ مستثنٰی ہے،مقروض،ضامن یا جس کا مال ہلاک ہوگیا اس کے لیے سوال جائز ہے اگرچہ دن رات کے کھانے کا مالک ہو لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ یہ مانگنے کا ذکر ہے۔رہا زکوۃ لینا اس کے متعلق یہاں مرقات نے فرمایا کہ فقیر اپنے اور اپنے بال بچوں کے ایک سال کا خرچ زکوۃ سے جمع کرسکتا ہے خرچ سے مراد کھانا اور کپڑا دونوں ہی ہیں۔