| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو لوگوں سے مانگے حالانکہ اس کے پاس بقدر دفع حاجت ہے ۱؎ تو قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے سوال اس کے چہرے میں کھروچن یا خارش یا زخم ہوں گے۲؎ عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قدر غنا کیا ہے فرمایا پچاس درہم یا اس قیمت کا سونا ۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ یعنی اس کے پاس روز مرّہ کی ضروریات کھانا،کپڑا ہے اور کوئی خاص ضرورت درپیش نہیں لہذا یہ حدیث گزشتہ اس حدیث کے خلاف نہیں جہاں تھا کہ ضامن بن جانے والا سوال کرسکتا ہےکہ ضمانت نے اسے سوال کی ضرورت ڈال دی۔ ۲؎ ظاہر یہ ہے کہ تینوں ہی الفاظ أو کے ساتھ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہیں،راوی کا شک نہیں اور ان تینوں کے الگ الگ معنی ہیں ہر دوسرے لفظ میں پہلے سے ترقی زیادہ ہےجیساکہ ہم نے ترجمہ میں ظاہر کردیا،چونکہ بے ضرورت بھکاری تین قسم کے تھے معمولی کبھی کبھی مانگ لینے والے اور ہمیشہ کے بھکاری ضدی و ہٹ دھرم بھکاری اسی لیے ان کے چہروں کے آثار بھی تین طرح کے ہوئے جیسی بھیک ویسا اس کا اثر لہذا أو تقسیم کے لیے ہے شک کے لیے نہیں۔ ۳؎ خیال رہے کہ جس نصاب سے سوال حرام ہوتا ہے اس کی مقداریں مختلف آئی ہیں۔یہ تو پچاس درہم یعنی قریبًا ساڑھے بارہ روپے ارشاد ہوئے،دوسری روایت میں ایک اوقیہ ارشاد ہوا یعنی چالیس درہم تقریبًا دس روپے،تیسری روایت میں دن رات کا کھانا ارشاد ہوا جیساکہ آگے آرہا ہے،لہذا بعض شارحین نے ان دونوں حدیثوں کو دن رات کے کھانے والی حدیث سے منسوخ مانا لیکن چونکہ ہرشخص کی حاجت مختلف ہوتی ہے، بڑے کنبے والے کا روزانہ خرچ زیادہ ہوتا ہے درمیانی کنبے والے کا درمیانہ اور اکیلے آدمی کا خرچہ بھی بہت معمولی،سرکار کے یہ تین ارشاد تین قسم کے لوگوں کے لحاظ سے ہیں جیسا موقعہ اور جیسا مسئلہ پوچھنے والا ویسا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب۔حکیم کی ہر بات حکمت سے ہوتی ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں اور ممکن ہے کہ حرمت سوال کا حکم تدریجًا آہستگی سے وارد ہوا ۔اولًا پچاس درہم والوں کو روکا گیا،پھر چالیس والوں کو،آخر میں دن رات کے کھانے پر قدرت رکھنے والے کو جیسے شراب کی حرمت کا حال ہوا کیونکہ اہل عرب سوال کے عادی تھے ایک دم سوال چھوڑنہ سکتے تھے اس لیے یہ ترتیب برتی گئی۔