روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سوال کھرونچے ہیں جن سے آدمی اپنا منہ کھرچتا ہے تو جو چاہے اپنے منہ پر یہ کھرونچے رکھے اور جو چاہے اس سے بچے ۲؎ مگر یہ کہ آدمی حکومت والے سے کچھ مانگے یا ایسی چیز کہ اس کے بغیر چارہ نہ پائے ۳؎ (ابوداؤد،ترمذی،نسائی)
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کے شاگردوں میں سے بڑے شاگرد ابن سیرین اور امام شعبی ہیں،بصرہ میں قیام رہا، ۵۵ھ میں وہیں وصال ہوا۔ ۲؎ منہ کے کھرونچوں سے مراد ذلت کا اثر ہے کہ جیسے منہ کے زخم دور سے نظر آتے ہیں ایسے ہی بھکاری دور سے پہچانا جاتا ہے اس کے چہرے پر نہ رونق ہوتی ہے نہ وقار بلکہ یہ آثار ذلت قیامت میں بھی اس پر ہوں گے جیساکہ پہلے حدیث شریف میں آچکا۔ ۳؎ یعنی یہ دو سوال جائز ہیں:مستحق کا حاکمِ وقت سے اپنے وظیفہ مقرر کرانا کہ یہ بھیک نہیں بلکہ اپنے حق کا مطالبہ ہے۔دوسرے سخت ضرورت کے وقت جب شرعًا اسے مانگنا جائز ہو تو کچھ مانگ لینا۔امام غزالی نے فرمایا کہ جس مالدار پر حج فرض ہوا اور بلا وجہ حج نہ کرے پھر غریب ہوجائے تو اس پر واجب ہے کہ حج کا خرچہ مانگے اور حج کو جائے کہ اس میں اپنے کو فسق سے نکالنا ہے،جب مجبورًا بھوک یا برہنگی دفع کرنے کے لیے سوال واجب ہے تو یہ بھی ضروری ہے۔(مرقات)