Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
71 - 5479
حدیث نمبر 71
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دینا چاہتے تو میں عرض کرتا کہ یہ مجھ سے زیادہ حاجت مندکو عطا فرمائیے  ۱؎ تو آپ فرماتے یہ لے لو اسے مال بنا لو اس کو صدقہ کرو تمہیں جو مال بغیر طمع اور بغیر مانگے ملے اسے لے لیا کرو اور جو نہ ملے اس کے پیچھے اپنے کو نہ لگاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ صحبت پاک مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تاثیر تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ  عنہ صرف غنی نہیں بلکہ غنی تر وغنی گر ہوگئے،مانگنا تو کیا بغیر مانگے آتی ہوئی چیز میں بھی ایثار ہی کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنے پر ترجیح دیتے ہیں،اپنے دور خلافت میں جب فارس اور روم کے خزانے مدینہ میں لاتے ہیں تو اس وقت بھی خود ایک قمیض ہی دھو دھو کر پہنتے ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

۲؎  سبحان اﷲ! کیا بے مثال تعلیم ہے۔مقصد یہ ہے کہ جو بغیر مانگے اور بغیر طمع کے ملے وہ رب تعالٰی کا عطیہ ہے اسے نہ لینا گویا اس عطیہ کی بے قدری ہے دنیا والوں سے استغناء اچھا اور اﷲ و رسول کا ہمیشہ محتاج رہنا اچھا۔مشائخ کرام معمولی نذرانہ بھی قبول کرلیتے ہیں،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے پھر کیا خوب فرمایا کہ تم خود لے کر صدقہ کردو تاکہ تمہیں لینے کا بھی ثواب  ملے اور دینے کا بھی۔

حکایت: حضرت بنان حمّالی کا پیشہ کرتے تھے ایک بار امام احمد بن حنبل کا کچھ سامان اجرت پر گھر پہنچایا وہاں تنور سے روٹیاں نکلتی دیکھیں،امام احمد نے اپنے بیٹے سے کہا کہ دو روٹیاں بنان کو بھی دے دو بنان نے انکار کردیا جب چلے گئے تو امام نے پھر دو روٹیاں ان کے پاس بھیجیں بنان نے قبول کرلیں،کسی نے امام احمد سے بنان کے اس رویّہ کی وجہ پوچھی کہ انہوں نے پہلے کیوں نہ لیں پھر کیوں لے لیں،امام نے فرمایا کہ وہ مرد متقی ہے پہلے ان کے نفس میں انتظار پیدا ہوچکا تھا نہ لیں،لوٹ جانے کے بعد مایوس ہوگئے تھے پھر لے لیں اور آپ نے یہی حدیث پڑھی۔(مرقات)
Flag Counter