| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ کچھ انصاری لوگوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا ۱؎ حضور نے انہیں دیا پھر مانگا حضور نے پھر دیا حتی کہ جو آپ کے پاس تھا ختم ہوگیا ۲؎ پھر فرمایا جو کچھ مال میرے پاس ہوگا وہ تم سے ہرگز بچا نہ رکھوں گا۳؎ جو سوال سے بچنا چاہے اﷲ اسے بچائے گا اور جو غنا چاہے گا اﷲ اسے غنا دے گا اور جو صبر چاہے گا اﷲ اسے صبر دے گا ۴؎ اورکسی کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ مانگنا بلاضرورت تھا جیساکہ اگلے فرمان سے معلوم ہورہا ہے۔ضرورۃً مانگنے والوں کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی دیتے تھے اوروں سے بھی دلواتے تھے۔ ۲؎ یعنی وہ حضرات مانگتے رہے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم دیتے رہے انہیں سب کچھ دے کر پھر مسئلہ بتایا اس میں تبلیغ بھی ہے اور سخاوت مطلقہ کا اظہار بھی۔معلوم ہوا کہ بلاضرورت مانگنے والوں کو دینا حرام نہیں اگرچہ انہیں مانگنا ممنوع ہے۔خیال رہے کہ جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خوش ہوکر دیا ہے وہ بہت عرصہ تک ختم نہ ہوا۔چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تھوڑے تھوڑے جو عطا فرمائے تھے جو ان بزرگوں نے سالہا سال کھائے اور کھلائے،پھر جب تولے تو اتنے ہی تھے مگر تولنے سے ختم ہوگئے،حضرت طلحہ کے ہاں ساڑھے چار سیر جَو کی روٹی پرسینکڑوں آدمیوں کی دعوت فرمادی جیساکہ باب المعجزات میں آئے گا،لہذا اس ختم ہونے سے کوئی دھوکا نہ کھائے،یار کے رنگ مختلف ہیں جب خوشی سے دیں تو سب کچھ ہے اور اگر کوئی ناخوش کرکے لے تو اس میں برکت نہیں۔ ۳؎ خیر سے مراد مال ہے،چونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مال حلال ہی لیتے تھے اس لیے اسے خیر فرمایا۔ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مال جمع نہ کیا اور نہ بعد وفات کچھ وراثۃً چھوڑا جو باغ وغیرہ تھے وہ سب مسلمانوں پر وقف رہے۔ ۴؎ یہ حدیث اس حدیث قدسی کی شرح ہے"اَنَا عِنْدَظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ"یعنی رب تعالٰی فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے قریب رہتا ہوں اس کا ظہور آخرت میں تو ہوگا ہی کہ اگر بندہ معافی کی امیدکرتا ہوا مرجائے تو ان شاءاﷲ اسے معافی ہی ملے گی،اکثر دنیا میں بھی ہوجاتا ہے کہ جو قرض نہ لینے یا نہ مانگنے کا خدا کے بھروسے پر پورا ارادہ کرلے تو اﷲ تعالٰی اسے ان سے بچا ہی لیتا ہے اور جو یہ کوشش کرے کہ دنیا والوں سے لاپرواہ رہوں تو بہت حد تک اﷲ اسے لاپرواہ ہی رکھتا ہے مگر یہ فقط زبانی دعویٰ نہ ہو عملی کوشش بھی ہو کہ کمانے میں مشغول رہے،خرچ درمیانہ رکھے،گُلچھرّے نہ اڑائے،اﷲ رسول سچے ہیں ان کے وعدے حق، غلطی ہم کرجاتے ہیں۔ ۵؎ یعنی رب تعالٰی کی عطاؤں میں سے بہترین اور بہت گنجائش والی عطا صبرہے کہ رب تعالٰی نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمایا:"اسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ"اور صابر کے ساتھ اﷲ ہوتا ہے،نیز صبر کے ذریعہ انسان بڑی بڑی مشقتیں برداشت کرلیتا ہے اور بڑے بڑے درجے حاصل کرلیتا ہے،رب تعالٰی نے ایوب علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:"اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا"ہم نے انہیں بندہ صابر پایا،صبر ہی کی برکت سے حضرت حسین علیہ السلام سید الشہداء ہوئے۔