۱؎ یعنی مالداروں کو صدقہ دینے کی رغبت دے رہے تھے اور فقیروں کو صبر اور مانگنے سے باز رہنے کا حکم دے رہے تھے۔
۲؎ الحمدﷲ! اس حدیث نے فقیر کی گزشتہ شرح کی تائید فرمادی یعنی بھکاری دینے والے سے نیچا ہے،ہر لینے والا نیچا نہیں بہت مرتبہ دینے والا خادم ہوتا ہے لینےوالامخدوم جس کی مثالیں بھی عرض کی جاچکیں۔ظاہر یہ ہے کہ یہ تفسیر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے نہ کہ سیدنا ابن عمر کی جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ بھکاری اس لیے مفضول ہوا کہ وہ اس مانگنے سے مائل بغنی ہے اور سخی اس لیے افضل ہوا کہ وہ مائل بفقر ہے یعنی فقیر مال لے رہا ہے اور سخی مال دے کر کم کررہا ہے لہذا اس حدیث سے یہی ثابت ہوا کہ غنا سے فقر افضل۔