| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا حضور نے دیا میں نے پھر مانگا حضور نے مجھے اور دیا۲؎ پھر مجھ سے فرمایا اے حکیم یہ مال خوش نما خوش ذائقہ ہے۳؎ جو اسے دلی لاپرواہی سے لے گا اسے اس مال میں برکت ہوگی اور جو اسے نفسانی طمع سے لے گا اسے برکت نہ ہوگی۴؎ اور وہ اس کی طرح ہوگا جو کھائے اور سیر نہ ہو۵؎ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۶؎ حضرت حکیم فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا کہ میں آپ کے سوا کسی سے کچھ نہ مانگوں گا حتی کہ دنیا چھوڑ دوں ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجے ہیں،آپ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی،ایک سوبیس سال عمر پائی،ساٹھ سال جاہلیت میں گزرے،ساٹھ سال اسلام میں۔(اشعۃ اللمعات) ۲؎ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ مانگنے کو عیب نہ سمجھتے تھے بلاضرورت بھی دستِ سوال دراز کردیتے تھے،نو مسلم حضرات اسی عادت کے مطابق اولًا مانگتے تھےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر انہیں دے کر سوال سے منع فرماتے تھے۔اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضا خان صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کو دیکھا گیا کہ آپ مسجد کے بھکاری کو پہلے دیتے پھر مسجد میں مانگنے سے منع کرتے شائد آپ کے عمل کا ماخذ یہ حدیث ہو۔ ۳؎ سبحان اﷲ! کیا بلیغ کلام ہے خوش نما سبزے سے آنکھ سیرنہیں ہوتی اور لذیذ کھانے سے دل نہیں بھرتا لیکن اگر بے قاعدہ کھاجاؤ تو تکلیف دیتا ہے،اسی طرح مال سے نہ آنکھ بھرے نہ دل لیکن ہوس کا انجام برا۔ ۴؎ لاپرواہی سے مراد طمع اور ہوس کا مقابل ہے یعنی جو مال لے تو لیکن صبروقناعت کے ساتھ کہ ناجائز کی طرف نظر نہ اٹھائے اور جائز مال کی بھی ہوس نہ ہو تو اگرچہ اس کے پاس مال تھوڑا ہو مگر برکت ہوگی کیونکہ اس میں اﷲ رسول کی رضا شامل ہوگی۔خیال رہے کہ مال کی زیادتی اور ہے برکت کچھ اور زیادتی مال کبھی ہلاک کردیتی ہے مگر برکت مال دین و دنیا میں رب تعالٰی کی رحمت ہوتی ہے،برکت والا تھوڑا پانی پیاس بجھادیتا ہے بہت سا پانی ڈبو دیتا ہے،دیکھو طالوت کے جن ساتھیوں نے نہر سے ایک چلو پانی پر قناعت کی وہ کامیاب رہے اور بہت سا پینے والے مارے گئے کیونکہ چلو میں برکت تھی اور اس میں محض کثرت۔ ۵؎ جوع البقر بیماری والا کھانے سے سیر نہیں ہوتا اور استسقاء والا پانی سے،ان دونوں کی یہ بھوک اور پیاس کبھی ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کی ہوس کو جوع البقر قرار دیا۔ ۶؎ اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا ہے اور نیچے والے سے مانگ کر لینے والا،خواہ دینے والا نذرانہ کے طور پر نیچا ہاتھ کرکے ہی دے اور لینے والا اوپر ہاتھ کرکے ہی اٹھائے مگر پھر بھی دینے والا ہی اونچا ہے،یہاں دینے اور لینے سے مراد بھیک دینا اور لینا ہے،اولاد کا ماں باپ کو دینا،مرید صادق کا اپنے شیخ کامل کی خدمت میں کچھ پیش کرنا،انصار کا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں نذرانے پیش کرنا اس حکم سے علیحدہ ہیں،اگر ہماری کھالوں کے جوتے بنیں اور رشتہ جان کے تسمے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اسے استعمال فرمائیں تو ان کے حق کا کروڑواں حصہ ادا نہ ہو۔اس حدیث سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ غنا فقر سے بہتر ہے اور غنی شاکر فقیر صابر سے افضل مگر حق یہ ہے کہ فقیر صابر غنی شاکر سے افضل ہے۔ہماری اس تقریر سے یہ حدیث غنی کے افضل ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہاں بھکاری فقیر کا ذکر ہے نہ کہ صابر کا،بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہاں اوپر والے ہاتھ سے فقیر صابر مراد ہے اور نیچے والے سے بھکاری،تب تو سبحان اﷲ! بہت لطف کی بات ہے۔ ۷؎ بعد کے معنے سوا بہت ہی مناسب ہیں جو شیخ نے اختیار کئے یعنی آپ سے تو جیتے جی قبر میں حشر میں مانگتا ہی رہوں گا کیوں نہ مانگوں میں بھکاری آپ داتا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَوْاَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ"اور فرماتاہے:"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ"اور فرماتاہے:"وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"۔آپ سے مانگنے میں ہماری عزت ہے،ہاں آپ کے سوا کسی سے نہ مانگوں گا۔شعر اُن کے در کی بھیک چھوڑیں سروری کے واسطے ان کے در کی بھیک اچھی سروری اچھی نہیں کل قیامت میں ساری خلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت وغیرہ کی بھیک مانگے گی،حضرت حکیم نے یہ وعدہ ایسا پورا کیا کہ اگر گھوڑے سے آپ کا کوڑا گرجاتا تو خود اتر کرلیتے کسی سے مانگتے نہیں۔خیال رہے کہ ارزء رزءٌ سے بمعنی کم کرنا،چونکہ مانگنے سے مانگنے والے کی عزت گھٹ جاتی ہے اور دینے والے کا کچھ مال بھی کم ہوتا ہے اس لیے اسے رزءٌ فرمایا۔