Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
67 - 5479
حدیث نمبر 67
روایت ہے حضرت زبیر ابن عوام سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی اپنی رسی لے پھر اپنی پیٹھ پرلکڑیوں کا گٹھا لادے اسے بیچے جس سے اﷲ اس کی عزت بچائے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے مانگے لوگ اسے دیں یا نہ دیں ۱؎ (بخاری)
شرح
۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ معمولی سے معمولی کام کرنا اور تھوڑے پیسوں کے لیے بہت سی مشقت کرنا بہتر ہے اس سے عزت نہیں جاتی مگر بھیک مانگنا بُرا جس سے عزت جاتی رہتی ہے،برکت ہوتی نہیں۔اسمیں اشارۃً فرمایا گیا کہ اگر کسی بڑے آدمی پر کوئی وقت پڑ جائے تو محنت مشقت کرنے میں شرم نہ کرے کیونکہ یہ سنت انبیاء ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی سے معمولی کام بھی اپنے ہاتھ شریف سے کئے ہیں بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ بھکاری بھیک مانگنے میں بڑی محنتیں کرتے ہیں اگر مزدوری کریں یا چھابڑی فروخت کریں تو ان پر محنت بھی کم پڑے اور آبرو سے بھی کھائیں۔اس حدیث سے اشارۃً یہ معلوم ہوا کہ جنگل کے خودرو درخت مباح ہیں ان پر جو قبضہ کرکے کاٹ لے وہ اس کا مالک ہوجائے گا جیسے جنگلی شکاریا عام کنوؤں کا پانی کیونکہ اگر یہ لکڑی کاٹنے والا اس کا مالک نہ ہوتا تو اس کا بپچنا جائز کیونکر ہوتا اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کو خیر کیوں فرماتے۔شعر 

بدست آنکہ تفتہ کردن خمیر 			بہ ازدست برسینہ پیش امیر
Flag Counter