۱؎ یعنی سوال پر اڑ نہ جائے کہ سامنے والا دینا نہ چاہے اور تم بغیر لئے ٹلنا نہ چاہو،مانگنا ایک عیب ہے اور اس پر اڑنا دس گُنا عیب،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا یَسْئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلْحَافًا"۔
۲؎ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر تو اپنا فرمایا مگر قانون کلی فرمایا کہ جو بھکاری ضد یا اڑسے بھیک وصول کرے دینے والا دینا نہ چاہے تو اس بھیک میں سخت بے برکتی ہوگی۔امام غزالی فرماتے ہیں جو فقیر یہ جانتے ہوئے بھیک لے کر دینے والا محض شرم و ندامت کی وجہ سے دے رہا ہے اس کا دل دینے کو نہ چاہتا تھا تو یہ مال بھکاری کے لیے حرام ہے۔خیال رہے کہ بھکاری کی ضد اور ہے چندہ کرنے والوں کا لحاظ کچھ اور،ضد حرام ہے لحاظ کا یہ حکم نہیں۔آج مسجدوں،مدرسوں کے چندوں میں عمومًا دیکھا گیا ہے کہ شہر کا بڑا معزز مالدار آدمی زیادہ وصول کرسکتا ہے،پھر اپنے لیے مانگنے اور دینی کاموں کے لیے چندہ کرنے کے احکام میں بھی فرق ہے۔