۱؎ یعنی پیشہ ور بھکاری اور بلاضرورت لوگوں سے مانگنے کا عادی قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے میں صرف ہڈی اور کھال ہوگی گوشت کا نام نہ ہوگا جس سے محشر والے پہچان لیں گے کہ یہ بھکاری تھا یا یہ مطلب ہے کہ اس کے چہرے پر ذلت و خواری کے آثار ہوں گے جیسے دنیا میں بھی بھکاری کا منہ چھپا نہیں رہتا لوگ دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ سائل ہے۔خیال رہے کہ وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ قیامت میں رب تعالٰی امت محمدی کی پردہ پوشی فرمائے گا اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ان کے دنیاوی چھپے عیب لوگوں پر ظاہر نہ کرے گا اور بھیک چھپا عیب نہ تھا،کھلا تھا جس پر بھکاری شرم بھی نہ کرتا تھا یا یہ مطلب ہے کہ ہمارے عیوب دوسری امتوں پر ظاہر نہ کرے گا بھکاری کا یہ واقعہ خودمسلمانوں ہی میں ہوگا لہذا حدیثوں میں تعارض نہیں۔مرقات میں اس جگہ ہے کہ امام احمد ابن حنبل یہ دعاء مانگاکرتے تھے الٰہی جیسے تو نے میرے چہرے کو غیر کے سجدے سے بچایا ایسے ہی میرے منہ کو دوسروں سے مانگنے کی لعنت سے بچا۔